fbpx

حکومت نومبرسےکالعدمTLPسےمذاکرات کررہی تھی لیکن TLPملک بھرمیں پرتشدد مظاہروں کی دھمکیاں دیتی رہی

اسلام آباد: حکومت نومبرسےکالعدمTLPسے مذاکرات کررہی تھی لیکنTLPملک بھرمیں پرتشدد مظاہروں کی دھمکیاں دیتی رہی ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیرمذہبی امور نورالحق قادری نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت گزشتہ نومبر سے کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات کررہی تھی اوران کواس بات کی پیشکش کی تھی کہ وہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ مل کرچلے لیکن ٹی ایل پی بات سمجھنے کی بجائے ملک بھرمیں پرتشدد مظاہروں کی بار بار دھمکیاں دیتے تھے

کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نور الحق قادری نے کہا کہ تحریک لبیک سے کہا گیا فرانسنسی سفیر کو نکالنے کیلئے قومی اسمبلی میں اپنا ڈرافٹ لے آئیں، لیکن انہوں نے حکومتی پیش کش مسترد کر دی۔

نور الحق قادری نے کہا کہ تحریک لبیک نے ہماری پیش کش کو ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ قومی اسمبلی میں قرار داد لانا حکومت کی ذمہ داری ہے، وہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔ نور الحق قادری نے کہا کہ اگر حکومت کی بات مان لی جاتی تو حالات اتنے کشیدہ نہ ہوتے۔

انہون نے کہا کہ اپنے ہی بھائیوں کی جائیدادواملاک کوجلایا گیا ، لوگوں پرتشدد کیا گیا ، قتل وغارت گری کی گئی جس کا نقصان بھی ملک کوہوا اپنے ہی پیاروں کوہوا

انہوں نے کہا کہ حکومت شروع دن سے ان سے کہتی چلی آرہی تھی کہ دنیا پاکستان کوکسی نہ کسی طریقے سے گھیرنے کی کوشش کررہی ہے ہمیں دشمن کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے اس مسئلے کا ایسا حل تلاش کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی کو بھی نقصان نہ پہنچے اوردنیا بھی پاکستان کے اس نقطہ نظرکو ماننے پرمجبورہوجائے لیکن ٹی ایل پی کی نظرمیں جوان کے پرتشدد نظریے کا حامی نہیں وہ ان کا دشمن ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.