fbpx

استاد کی عظمت ,وہ واقع ہی استاد تھے تحریر: فیصل رفیع

‘معمارقوم’

ایک وقت تھا جب لوگ بنا غرض لالچ کے دوسروں کو کچھ دینا چاہتے تھے .استاد ہونا بڑے اعزاز کی بات تھی. استاد اپنے تمام طلباء کو بنا مطلب کے سب کچھ دینا چاہتے تھے اور سب کو برابری کی سطح پر رکھتے تھے. طالب علم اپنے استاد کی بڑی قدر کیا کرتے تھے جب استاد کوئی کام کہتا تو وہ فورا کرتے چاہے اس کے گھر کا ہو یا کوئی باہر کا کام. استاد اور شاگرد کے درمیان محبت و احترام کا رشتہ تھا. استاد دلی طور پر دعائیں دیا کرتا تھا اپنے شاگردوں کو. اپنے شاگردوں کی خطاؤں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے معاف کر کے انہیں اصل حقیقت سے آشنا کیا کرتا تھا. ایسے اساتذہ صرف وہی لوگ تھے جو صرف اور صرف دنیا کو نیک اور خوبصورت بنانے اور اچھائی کا پیغام دینا چاہتے تھے. ان کا طرز عمل ایسا ہوتا تھا کہ ان کی قدر کرنے کو جی چاہتا تھا. ایک بات ان میں تھی ایسا لگتا تھا وہ صرف اور صرف دنیا کو اچھا سبق سکھانے اور خوبصورت درس دینے کے لیے آئے ہیں. یعنی ان کے ہر عمل سے لگتا تھا کہ وہ واقع ہی استاد ہیں وہ جس منصب پر فائز ہیں واقع ہی وہ اس کے حقدار ہیں. 

مگر جیسے جیسے ہم مہذب(Civilized) ہوتے گئے ویسے ویسے Passion —《Profession نا رہا. اصول پسندی اور اچھائی غائب ہوگئی .حادثاتی طور پر وہ لوگ اس نیک پیشے میں آئے جن کا مقصد کوئی اور تھا. وہ بننا کچھ چاہتے تھے اور بن کچھ گئے . ہوا یوں پھر, نہ وہ جگہ جاکر اپنی ذمہ داری پوری کر سکے جس سے وہ جانا چاہتے تھے اور نہ ہی یہاں پر اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کر پائے. آئیے ذرا سوچیں ایک آدمی جو ڈاکٹر بننا چاہتا تھا یا انجینئر بننا چاہتا تھا جس نے کبھی پڑھایا ہو ہی نہ اس کو پڑھانے کا موقع مل جائے سرکاری سطح پر تو اس کا اثر کس پر پڑے گا. کیا وہ اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کر پائے گا اس جگہ پر جس جگہ کو وہ جانتا ہی نہیں اس نے کیا کرنا ہے وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے آشنا ہی نہیں ہو پائے گا .کیوں نہ کے جس نے پولیس افسر بننا تھا اسے پڑھانے کا کام دے دیا جائے تو کیا وہ اس ذمہ داری کو سمجھ سکے گا جو ایک باقاعدہ پیشہ ور استاد سمجھتا ہے.

” مشہور شاعر انور مسعود اپنے ایک استاد سید وزیر الحسن عابدی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ایسے استاد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں. وہ ایسے پروفیسر تھے کہ کسی سٹوڈنٹ کو کلاس میں آنے نہیں دیتے تھے جس کے پاس کوئی سوال نہیں ہوتا تھا. وہ کہتے تھے علم سوال سے پیدا ہوتا ہے.” 

ہم دیکھتے ہیں یونیورسٹیوں میں کالجوں میں سکولوں میں طالبعلموں کے جائز احساسات کو دبایا جاتا ہے. ان سے جائز سوال پوچھنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے. دیکھنے میں آیا ہے پروفیسر کلاس میں کہہ رہا تھا کہ سمجھ آئے یا نہ آئے چپ کر کے بیٹھنا ہے کوئی سوال نہیں پوچھنا. بعض دفعہ تو جائز سوال پوچھنے پر اساتذہ برہم ہو جاتے ہیں. اس طرح کے اور بھی بہت سے کام دیکھنے میں آئے جو مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں.

کیا ایسی شخصیت کے مالک استاد واقع ہی پڑھانا چاہتے ہیں یا جان چھڑانا چاہتے ہیں. کیا وہ واقع ہی آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں. میں یہ بھی ذکر یہاں پر کرنا چاہوں گا کہ ایک یونیورسٹی کے استاد کے ہاتھ میں سب کچھ ہوتا ہے وہ چاہے تو طالبعلم کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے طالبعلم خوف میں رہتا ہے کہ استاد ناراض نہ ہوجائے اور وہ جائز سوال پوچھنے سے بھی کتراتے ہیں ایک اور مسئلہ یہاں پر ہے سیشنل مارکس کا جس کے پیچھے طالبعلم نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ایک ان پر سمسٹر سسٹم کا بوجھ ہوتا ہے. ہم مانتے ہیں ہمارا تعلیمی نظام درست سمت میں نہیں ہے مگر کیا اس بات سے انجان بن جائیں گے اور اساتذہ انہیں جیسا طرز عمل اختیار رکھیں گے.

طالب علم تو نہ سمجھ اور نادان ہوتے ہیں ان کے پاس استاد جتنا علم نہیں ہوتا وہ تو اپنے استادوں سے سیکھتے ہیں اور استادوں کو ایسا ہونا چاہیے کہ ان کے ہر عمل سے سیکھا جائے.

کچھ ماہر اساتذہ کے انٹرویوز لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ ہوا وہ استاد جو پڑھاتے وقت سوال پوچھنے پر برہم ہوجاتے ہیں یا ان کے رویے میں تلخی ہوتی ہے وہ مجبوراً وہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور وہ تجربہ کار نہیں ہوتے. وہ اس جگہ بالکل نئے ہوتے ہیں . انہیں سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ وہ کیا کریں یہاں میں اپنے استاد کا جملہ بولنا چاہوں گا کچھ لوگ تھانے دار بننا چاہتے تھے. مگر جب وہ نہ بن پائے تو انہیں پڑھانے پر لگا دیا جاتا ہے اور پھر وہ اپنی تھانے داری دوسروں کے مستقبل سے خوب جم کر کرتے ہیں

تو خدارا یہ نوجوان نسل یہ طالبعلم ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں. اگر آپ ان کے سوالوں کی گردنیں دبائیں گے تو یاد رکھیں آنے والی نسلیں جاہل پیدا ہوگیں. ایک پودا جس کو کھلی فضا میں بڑھنا ہے چمن کی زینت بننا ہے ہم کیوں زبردستی اسے ڈھکن دے کر بند کرنا چاہتے ہیں. اللہ تعالی نے ہر ایک کو آزاد پیدا کیا ہے اور ہمیں آزاد ہی رہنے دینا چاہیے .

[{کالم; }]

Twitter @FaisalRafiSays 

FaisalRafiSays@gmail.com