fbpx

شوگرمافیاکیخلاف تحقیقاتی ٹیم کےسربراہ کےاپوزیشن رہنما سےبیک ڈوررابطے؟کیوں ہٹایاگیا،اہم وجہ سامنےآگئی

لاہور:شوگرمافیا کیخلاف تحقیقاتی ٹیم کےسربراہ کےاپوزیشن شخصیت سےبیک ڈوررابطے؟کیوں ہٹایاگیا،اہم وجہ سامنےآگئی،اطلاعات کے مطابق شوگر مافیاکے خلاف تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کو تبدیل کیوں کیا گیا اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں

اس حوالے سے غیرمصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ یہ بھی ہوسکتا ہےکہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے خاندان کی ٹو اسٹار شوگر مل کے خلاف کارروائی کرنے پر چینی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو ہٹایا گیا،

بعض رپورٹس میں‌ یہ صورت حال بھی سامنے آئی تھی کہ ایف آئی اے کی ٹیم خسرو بختیار کو ٹو اسٹار شوگر مل میں 13 کروڑ کے شیئرزرکھنے پر طلب کرنا چاہتی تھی۔

بعض ذرائع نے تو یہ بھی دعویٰ کیا ہےکہ ڈاکٹر رضوان نے جہانگیر ترین کی شوگراسکینڈل میں گرفتاری کی اجازت بھی مانگی تھی اور اپنے مؤقف پر قائم رہنے پر کل ان کو کام سے روک دیا گیا

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جب عدالت نے گرفتاری سے روک دیا ہے تواس میں حکومت کا کیا قصور ہے

کچھ لوگوں کا کہنا ہےکہ ڈاکٹررضوان کو ایف آئی اے سے فارغ کردیا گیا ہے جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ ایسی کوئی بات نہیں ، ان دعووں‌کی تائید وتصدیق میں ابھی کچھ وقت لگے گا

ذرائع کے مطابق چینی تحقیقاتی ٹیم رواں ہفتے 5 مزید شوگر مل مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے والی تھی، اس وقت مجموعی طور پر 12 ایف آئی آر درج ہیں جن میں 3 جہانگیر ترین اور ایک ایف آئی آر شہباز شریف خاندان کے خلاف درج ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر مل مالکان اور سٹہ مافیا کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پراسیکیوشن میں کمزور تھی۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ ڈاکٹر رضوان کے بعد اب شوگر اسکینڈل انکوائری سینئر افسر ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ابو بکر خدا بخش کو دے دی گئی

ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ابو بکر خدا بخش کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ غیرسیاسی ہیں اوران کے اپوزیشن یا حکومتی کسی سیاسی شخصیت سے کوئی بیک ڈوررابطے نہیں ، جس طرح ڈاکٹررضوان کے بارے میں خبریں پھیلنا شروع ہوگئی ہیں کہ وہ بنیادی طورپرپنجاب لاہورکے ایک بڑے اپوزیشن سیاسی خاندان سے سیاسی وابستگی رکھتے ہیں

یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے تحفظات پر سربراہ شوگر انکوائری کمیشن کو ہٹا دیا گیا، ڈاکٹر رضوان کو انویسٹی گیشن سربراہ کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے ابوبکر خدا بخش کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.