fbpx

بھارتی کرونا ویکسین نہ صرف غیرموثربلکہ انتہائی نقصان دہ جنوبی افریقہ نے واپس کردی:شرمندگی اٹھانا پڑگئی

دنیا کے کئی ممالک کی طرح جنوبی افریقہ نے بھی بھارت کی تیار کردہ کورونا ویکیسن لینے سے انکار کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ویکسین جنوبی افریقہ پہنچنے پر جب وہاں کی حکومت کی جانب سے اس کا مشاہدہ کروایا گیا تو اس میں ثابت ہوا کہ بھارت کی تیار کردہ کورونا ویکسین ناصرف ناقص ہے بلکہ اس کی معیاد بھی انتہائی مختصر ہے ،

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کی ویکسین بنانے کی دعویدار مودی حکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے، جنوبی افریقہ کی حکومت نے بھارت میں مقامی سطح پر تیار کردہ کرونا وائرس کی ویکسین کو غیر معیاری اور بیکار قرار دے کر لینے سے انکار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کی حکومت کے ذرائع نے بھارتی کرونا وائرس کی ویکسین کو نہ صرف بیکار اور غیر معیاری قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی ویکسین کی میعاد مختصر ترین ہے،

 

اس مشاہدے کے بعد جنوبی افریقہ نے بھارت سے منگوائی ہوئی عالمی وباء کورونا ویکسین کی ایک ملین خوراکیں واپس بھجوانے کا اعلان کردیا۔

یاد رہے کہ بھارت کے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تیار کی گئی کرونا وائرس کی ویکسین جنوبی افریقہ کو بیچی گئی تھی، جس کا جنوبی افریقہ کی وزارت صحت نے لیبارٹری میں ٹیسٹ کروایا تو بھارتی تیار کردہ کرونا ویکسین کرونا وائرس کے خلاف بے اثر اور غیر معیاری نکلی۔

قبل ازیں بھارت کواس وقت بھی عالمی سطح پر خفت کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی تیار کردہ کورونا ویکسین دنیا کا کوئی ملک فری میں بھی لینے کو تیار نہ ہوا ،

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی تیار کردہ عالمی وباء کورونا وائرس کی ویکسین ’کوواکسن‘ کی 8.1 لاکھ خوراکوں میں سے جو بھارت کی جانب سے 7 ممالک کو بطور امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور کوویڈ19 کے خلاف بھارت کی پہلی دیسی ویکسین خیر سگالی کے طور پر میانمار ، منگولیا ، عمان ، بحرین ، فلپائن ، مالدیپ اور ماریشیس کو بھیجی گئی تھی ،

بھارتی ویکسین کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے صرف ایک ملک میانمار نے 2 لاکھ خوراکیں رکھی ہیں جب کہ باقی تمام ممالک کے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھی بھارت کی تیار کردہ ویکسین کی خواراکیں لینے سے انکار کردی

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جبکہ ایشیا میں کرونا وائرس سے سب سے متاثرہ ملک بھارت خود ہے جس میں کرونا وائرس کی وبا دن بہ دن کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جارہی ہیں اور کرونا وائرس کے روزانہ سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد بھی لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب بھارت کے سیرم انسٹیٹیوٹ کی تیار کردہ کرونا وائرس کی ویکسین کے بیکار ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی وزیر صحت انیل وج نے بھارتی ساختہ ویکسین لگوائی تھی جس کے چند روز بعد ہی بھارتی وزیر صحت میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی تھی۔

 

 

یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ جنوبی افریقہ میں جووائرس پایا جارہا ہے وہاں برطانیہ کی فائزرویکیسن بے اثرہوگئی ہے وہاں بھارتی ویکسین کی کیا حیثیت ہے ، بھارتی ویکسین تو جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے کرونا وائرس کے لیے بالکل ہیے بے اثرہے

 

دوسری طرف یہ بھی بحث زورپکڑ رہی ہے کہ جیسا کہ سنا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت سے ویکسین منگوانا  چاہتا ہے توپھریہ بہت ہی شرمندگی کا مقام ہوگا پاکستان کے لیے کہ جس بھارت کی ویکسین نہ صرف غیر موثرہے بلکہ نقصان دہ اس ویکسین کو جسے دنیا مسترد کرچکی ہے پاکستان منگواتا ہے تو پھر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے

 

 

لیکن جب اس سلسلے میں محکمہ صحت اورحکومتی زرائع سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے بتایا کہ یہ پراپیگنڈہ ہے پاکستان کو بھارت کی ویکسین پراعتبار ہی نہیں دوسری بات ہے کہ پاکستان کیوں بھارت سے منگوائے جبکہ پاکستان کے پاس پہے ہی چین کی طرف سے فراہم کردہ ویکسین موجود ہے ، اس لیے یہ پراپیگنڈہ ہے جسے مسترد کرتے ہیں

 

یاد رہےکہ بہت پہلے ہی بھارت میں تیار کی گئی کرونا (کورونا) وائرس ویکسین پر اس کی افادیت اور آزمائشی استعمال سے متعلق کم تفصیلات کی بنا پر طبی ماہرین اور سیاسی حزب اختلاف کی جانب سے سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے

‘کوویکسن’ نامی ویکسین کے محدود پیمانے پر استعمال کی اتوار کو ہنگامی بنیادوں پر منظوری دی گئی تھی۔ بھارت نے جمعے کو ماہرین کی جانب سے سبزجھنڈی دکھائے جانے کے بعد پہلی منظوری آکسفورڈ، آسٹرازنیکا کے لیے دی تھی۔

اس کے فوری بعد ‘کوویکسن’ کی منظوری دی گئی, جو حیدرآباد میں قائم ادویات ساز کمپنی بھارت بائیوٹیک نے سرکاری ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے اشتراک سے تیار کی تھی

 کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی خبر بھارت کے ڈرگز کنٹرول جنرل (ڈی سی جی آئی) نے سنائی جسے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی حکومت نے ‘گیم چینجر’ اور ملک کے’خود انحصاری’ حاصل کرنے کے وسیع تر ایجنڈے کی فتح کے طور پر سراہا۔

تاہم ماہرین نے آزمائشی استعمال کے تیسرے مرحلے کی تکمیل یا افادیت سے متعلق تفصیلات کی اشاعت سے پہلے بظاہر ویکسین کے استعمال کی جلدی میں دی گئی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔

بھارتی حکام نے آج دوماہ قبل ہی کہہ دیا تھا کہ  بائیوٹیک کی ویکسین کو آکسفورڈ – آسٹرازنیکا کا بیک اپ قرار دیا ہے، جو سخت نگرانی میں لگائی جائے گی اور صرف اس صورت میں لگائی جائے گی کہ جب ایسا دکھائی دے کہ ملک میں کرونا وائرس کے کیس بڑی تعداد میں بڑھ رہے تھے

بھارت کے ڈرگرز کنٹرولر جنرل وی جی سومانی نے پہلے ہی کہا تھا  کہ ویکسین کی ‘عوامی مفاد میں وافر احتیاطی تدابیر کے طور پر اور آزمائشی انداز میں استعمال کی منظوری دی گئی تا کہ ویکسین کے معاملے میں زیادہ راستے کھلے ہوں۔ خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب نئی قسم کے وائرس سے ہونے والے انفیکشن کا سامنا ہو۔’

لیکن صحت کے شعبے کی نگرانی کرنے والے خود مختار ادارے آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک (اے آئی ڈی اے این) نے اپنے بیان میں کہا  تھا کہ وہ ویکسین کی منظوری پر ‘ہل کر رہ گیا ہے۔’ ادارے نے  ڈی جی سی آئی پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے لیکن نہ تونظرثانی کی گئی اورنہ اس کوتاہی کااظہارکیا گیا

یہ بھی یاد رہے کہ انہیں دنوں کی بات ہے کہ ادارے نے ‘ویکسین کی افادیت سے متعلق ڈیٹا کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات’ کا اظہار بھی کیا تھا ۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ ‘اس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں کہ کوویکسن وائرس کی نئی قسم سے ہونے والے انفیکشن کی صورت میں مؤثر ہو گی۔’

اے آئی ڈی اے این نے بیان میں کہا تھا کہ : ‘ایسی ویکسین کی منظوری جس کی افادیت کے بارے میں تحقیق مکمل نہیں ہوئی، کا فیصلہ چاہے وہ سارے عمل کی رفتار بڑھا کر کیا گیا ہو، جوابات کے مقابلے میں سوالات زیادہ پیدا کرتا ہے اور ممکن ہے کہ اس سے سائنس کے شعبے میں فیصلہ کرنے والے ہمارے اداروں پر اعتماد میں اضافہ نہیں ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.