fbpx

تحقیقاتی کمیٹی آج سانحہ مری کے متاثرین سے ملاقات کےبعد کس کو رپورٹ پیش کرے گی تفصلات آگئیں

راولپنڈی:تحقیقاتی کمیٹی آج سانحہ مری کے متاثرین سے ملاقات کےبعد کس کو رپورٹ پیش کرے گی تفصلات آگئیں،اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی آج سانحہ مری کے متاثرین سے ملاقات کرے گی جس کی رپورٹ پیر کو وزیراعلیٰ پنجاب کو دی جائے گی۔

سانحہ مری کی تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی، تحقیقاتی کمیٹی آج چھٹے روز سانحے کے متاثرین سے ملاقات کرے گی، سانحہ مری انتظامیہ اور آپریشنل عملے کے بیانات مکمل ہوچکے۔

تحقیقاتی ٹیم آج مختلف علاقوں کا دورہ کرے گی، اور متاثرین سے آنکھوں دیکھے حال پر سوالات کیے جائیں گے، بیانات کا انتظامیہ کے بیانات سے تقابلی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کا آخری مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تحقیقاتی کمیٹی اتوار کو بھی تحقیقات جاری رہیں گی

ادھرسانحہ مری کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے مطابق طوفان کے دوران برف ہٹانے والی 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر کھڑی تھیں، ڈرائیور موجود تھے نہ ہی دیگر عملہ جبکہ محکمہ جنگلات کے حکام کمیٹی کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔

سانحہ مری کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں ، تحقیقاتی کمیٹی نے پنجاب ہاؤس مری میں آپریشنل عملے اور برفانی طوفان کے دوران مدد کیلئے موصول ہونے والی کالز کے بارے میں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے ۔

برف ہٹانے والی گاڑیوں سے متعلق ہائی وے مکینیکل ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ 29 گاڑیوں میں سے 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر ایک نجی بینک میں کھڑی رہیں جبکہ ڈرائیوز اور عملہ ڈیوٹی پر موجود نہ تھا۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کا راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں دفتر موجود نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔

محکمہ جنگلات کے حکام یومیہ اجرت اور سڑکوں پر گرے درخت ہٹانے والے مزدوروں کے بارے میں سوالا ت کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس پر کمیٹی نے عملے کی تفصیلات اور ذمہ داریوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی کو بتایاگیا کہ مری میں شدید برفباری کی وارننگ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے جاری کی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے مری کے داخلی راستوں سے تقریباً 50 ہزار گاڑیاں واپس بھیجیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!