ہائی کورٹ نےمیشا شفیع کوسبق سکھا دیا،پسپائی کےتمام راستےبھی بند

لاہور:لاہورہائی کورٹ نے میشا شفیع کو سبق سکھا دیا،پسپائی کے تمام راستے بھی بند ،اطلاعات کے مطابق شوبزکی دنیا کے ایک معروف کیس میں وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال بھی بڑی دلچسپ ہوتی جارہی ہے ، لاہورہائی کورٹ نے میشا شفیع کی پسپائی کے تمام راستے بند کردیئے

ادھر ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے خود سمیت اپنے گواہان کے خلاف سائبر کرائم قوانین کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق مقدمے کے فیصلے تک اداکار و گلوکار علی ظفر کے دائر کردہ ہتک عزت کے مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

لاہورہائی کورٹ سے ذرائع کے مطابق جسٹس چوہدری مسعود جہانگیر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے خلاف مقدمہ 2 سال پہلے درج کیا گیا تھا جس کا فیصلہ اس کے اپنے میرٹ کی بنیاد پر ہونا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ فوجداری مقدمے کا نتیجہ اس مقدمے کے نتائج پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہ بات اچھی طرح سے طے ہے کہ سول اور فوجداری ایک ساتھ چل سکتی ہیں اور ایک عدالت کا فیصلہ دوسری کو پابند نہیں کرے گا۔جج نے ریمارکس دیے کہ محض خدشہ ہے کہ متوازی کارروائی کا تسلسل درخواست دہندہ کے دفاع کو منفی تعصب کا نشانہ بنائے گا اور یہ خدشہ اس اس کا دعوی کرنے کی پابندی کے طور پر وہ کام نہیں کرتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج نے ریمارکس دیے کہ سول قانونی چارہ جوئی کا دائرہ کار اس میں شامل فریقین کے شہری حقوق کا نفاذ ہے جبکہ مجرمانہ کارروائی کا مقصد مبینہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجرم کو سزا دینا ہے۔

جج نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے کچھ گواہان کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کیے جاچکے ہیں لہذا درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف کہ دوسرے مقدمے کی وجہ سے ان کے گواہان پیش ہونے کے لیے ہچکچاہٹ کا شکارہیں، اس کا مقدمے کی کارروائی روکنے کے لیے کوئی جواز نہیں بنتا۔

درخواست مسترد کرتے ہوئے جج نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ درخواست گزار کی جانب سے مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرنے میں بالکل درست تھی۔

دوسری جانب ایڈیشنل اینڈ سیشن جج یاسر حیات 7 نومبر کو ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت کریں گے جس میں میشا شفیع کو شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس سے قبل میشا شفیع نے 10 اکتوبر کو لاہور کی سیشن کورٹ میں اپنے خلاف چلنے والے ہتک عزت کے مقدمے کی کارروائی کو فی الحال روکنے یا ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.