fbpx

مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

سنکیانگ:چین نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ سے پیچھے نچلے نہ بیٹھے رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘مشرق وسطیٰ کسی کے گھر کا پچھواڑا نہیں ہے۔’ چینی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے پس منظر میں یہ بات کہی ہے۔

وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ‘مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے اور نہ ہی خطے میں ایسا کوئی خلا ہے’ جسے امریکہ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چینی ترجمان نے اپنے ملک کی فروغ امن اور مسائل کے منصفانہ حل کے لیے کوششوں کے حوالے سے کہا چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ امن کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھ سکے۔’

چینی ترجمان وانگ نے یہ بھی کہا ‘چین پوری طرح پیسفک آئی لینڈ کے ملکوں کی خواہش کو سنے گا اور ان کی خواہش کا احترام کرے گا۔’ واضح رہے چین کی طرف سے یہ بات پیسفک آئی لینڈ فورم کی طرف سے الزامات سامنے آنے کے بعد کہی گئی ہے۔ پی آئی ایف کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو ہر چیز بشمول سکیورٹی اور ماہی گیری ہر چیز پر محیط ہے۔

چینی ترجمان کے بیان سے محض ایک روز پہلے جمعرات کے دن پی آئی ایف کے سیکرٹری جنرل ہنری پونا نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ چینی وزیر خارجہ وانگ بحرالکاہل ملکوں میں اپنے پہلے سے تیار کردہ دستاویز کے ساتھ آئے تاکہ متعلقہ ملکوں سے مشاورت کر سکیں۔ لیکن یہ ابھی نہیں ہوسکی ہے۔

اس موقع پر وانگ نے اس پر اصرار کیا تھا کہ چین نے بحرالکاہل کے ملکوں سے بڑی سنجیدہ مشاورت کی ہے۔ ہم اس پراسس کو جاری رکھیں گے۔’

وانگ نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سری لنکا کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بیجنگ نے سری لنکا کے لیے 75 ملین ڈالر کی امداد کا پہلے ہی وعدہ کر رکھا ہے۔ جبکہ خوراک کی دوسری شپمنٹ بھی بھیج چکا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے سنکیانگ کا دورہ کیا ہے ۔ سنکیانگ کے سفر کے دوران صدر شی کی طرف سے خصوصی تو جہ اور اہم ہدایات کا خلاصہ چار کلیدی نکات میں کیا جا سکتا ہے۔آج ہفتے کے روز صدر شی جن پنگ نے کہا ، “سنکیانگ کا سب سے طویل المدتی مسئلہ نسلی اتحاد کا مسئلہ ہے،” اور “سنکیانگ میں سب سے بڑا کام نسلی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی ہے۔”انہوں نے کہا کہ اتحاد شناخت سے الگ نہیں ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ ثقافتی شناخت سب سے بنیادی شناخت ہے، قومی اتحاد کی جڑ اور قومی ہم آہنگی کی روح ہے۔

انہوں نے مز ید کہا کہ سنکیانگ کے مسائل کے حل کے لیے ترقی بنیادی کلید ہے۔ سنکیانگ کے لیے طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز لوگوں کے دلوں میں سکون ہے۔ سنکیانگ کے اس معائنہ کے دوران صدر شی نے زور دیا، “ہمیں ترقی اور استحکام، لوگوں کی روزی، اور ترقی اور لوگوں کے دلوں کے درمیان قریبی تعلق کو گہرائی سے سمجھنا چاہیے، اور لوگوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے اور لوگوں کے دلوں کو متحد کرنے کے لیے ترقیاتی ثمرات کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔

اس معائنہ کے دوران صدر شی نے واضح طور پر تجویز پیش کی کہ ہمیں سنکیانگ میں بنیادی اور طویل مدتی امور پر توجہ دینی چاہیے جو طویل مدتی استحکام سے متعلق ہیں۔ سنکیانگ کی سماجی صورتحال کے مجموعی اور طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سنکیانگ میں قانون کی حکمرانی کو زیادہ نمایاں اور اہم مقام پر رکھا جائے ۔