fbpx

نوازشریف کےTTPسےمتعلق نظریات:عسکری قیادت متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان:عرفان صدیقی

اسلام آباد :ٹی ٹی پی سے متعلق نوازشریف کے نظریات سےعسکری قیادت متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان ہے:اطلاعات کے مطابق نوازشریف کے معتمد خاص ، اسکرپٹ رائٹر سینیٹر عرفان صدیقی نے بہت گہرے انکشافات کیے ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عرفان صدیقی عمران خان کی شخصیت اور دوٹوک موقف کے بہت ہی زیادہ معترف اور مداح ہیں

نواز شریف حکومت کے دورِ حکومت میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران عسکری قیادت کی جانب سے حکومت کو تعاون نہیں ملا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ نوازشریف کے تحریک طالبان کے متعلق نظریات عسکری قیادت سے متصادم تھے

عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد نواز شریف کام کرتے رہے کہ کس طرح اتفاق رائے پیدا کیا جائے، عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا، اس وقت عمران خان نے طالبان سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکارکیا تھا۔

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہم نےنیک نیتی سےمذاکرات شروع کیے، امید تھی کہ حل نکل آئےگا لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، طالبان شوریٰ خود ہمیں کہتی تھی کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ان کی کمانڈ سے باہر ہیں، ہم نے طالبان شوریٰ سے کہا کہ پھر ایسے لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں، مذمت کریں وہ یہ بھی نہیں کرتے تھے ،اس طرح مذاکرات ہچکولے کھاتے رہتے تھے اور بات آگے بڑھ نہیں پاتی تھی۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان سے حکومتی کمیٹی میں اپنا نمائندہ دینے کا کہا تو انہوں نے رستم شاہ مہمند کواپنا نمائندہ مقررکیا۔ عرفان صدیقی نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں عمران خان سمیت تمام پارٹیوں کے سربراہ شریک تھے جس میں اتفاق رائے ہوا کہ ہمیں مار دھاڑ نہیں کرنی، آپریشن نہیں کرنا، اس وقت کے آرمی چیف اور عسکری قیادت نے شرکاء کو بریفنگ دی تھی۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کا بڑا زور دار مؤقف تھا کہ امن اور بات چیت کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا ہے،عرفان صدیقی کہتےہیں کہ میں عمران خان کے دلیرانہ موقف اور بیانیے سے بہت متاثرہوں ،

عرفان صدیقی نے بتایا پھرالزام دہرایا کہ طالبان میں سنجیدگی نظر نہیں آئی کیونکہ جہاں سنجیدگی ہوتی ہے وہاں شرطیں نہیں لگائی جاتیں، سنجیدگی ہو تو دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کی جاتی ہے تاکہ بات آگے بڑھے۔

خیال رہے کہ موجودہ حکومت بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کررہی ہے اور گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان سیزفائر پر اتفاق ہوا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!