fbpx

ڈاکٹروں کی غفلت نوجوان کی جان لے گئی:ورثا کواحتجاج کرنے کی سزامل گئی:میت والے گھرمیں پولیس پہنچ گئی

لا ہو ر:ڈاکٹروں کی غفلت نوجوان کی جان لے گئی:ورثا کواحتجاج کرنے کی سزامل گئی:میت والے گھرمیں پولیس پہنچ گئی ،اطلاعات کے مطابق لاہور کے علاقے چھپڑ سٹاپ شریف پلازے کا ایک نوجوان حادثے کا شکارہوا تو اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا ،

ذرائع کے مطابق وقار نامی نوجوان تین چار دن ہسپتال میں زیرعلاج رہا ، رات کو اس کی وفات ہوگئی تو ورثا نے ڈاکٹروں‌ کی روایتی سستی اورخود غرضی کو اپنے پیارے کی موت قراردیتے ہوئے احتجاج کیا

اس احتجاج میں ورثا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کےسامنے انسانیت چیز کی کوئی اہمیت نہیں ، ڈاکٹروں اورنرسز نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اورپھرہمارے پیارے کا بہترانداز سے علاج معالجہ نہ کیا بلکہ بے حسی کا بھرپورمظاہرہ کیا

ذرائع کے مطابق اس دوران وہاں ایس ایچ او شادمان بھی پہنچ گئے اوریوں یہ معاملہ رفع دفع ہوگیا

ادھر باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق اس کےبعد ڈاکٹروں نے اپنی ناہلی ، خودغرضی اوربے حسی کوچھپانے کے لیے ایک احتجاج کا پروگرام بنا یا اورپھرسروسز ہسپتال کی ایمرجنسی بند کرکے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرنے والے نوجوان وقار کے لواحقین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے تاکہ آئندہ سے کوئی مریض یا اس کا وارث ہمارے معاملات میں دخل اندازی کی جرات نہ کرسکے

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وقار کے ورثا کہنا ہے کہ ایس ایچ اوشادمان بھی وہاں‌ تھے وہ خود بھی اس بات کے گواہ ہیں‌ کہ ورثا کی طرف سے احتجاج تو کیا گیا لیکن وہ پرامن احتجاج تھا جوہرمظلوم اورمقہورشخص کا حق ہوتا ہے

ورثا کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ دونوں فریقوں سے ان کی شکایات یا گزارشات سن کرفیصلہ کیا جائے لیکن ابھی تک نہ سی سی پی اولاہور نے آنے کی زحمت گوارہ کی اورنہ ہی پولیس وزیراعلیٰ‌ کے احکامات پرعمل کرنے کی پوزیشن میں‌ ہے

لواحقین کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ‌ غیرجانبدارکمیٹی بنائیں تاکہ اس معاملے کا کوئی مثبت حل نکل آگئے

یاد رہےکہ سروسز ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے جاں بحق ہونے والے مریض کےلواحقین نے مبینہ طورپر ڈاکٹروں اورنرسوں پرتشدد کیا ،جس پر ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی بھی بند کر دیں ،

بعدازاں سروسز اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز نرسیز پیرا میڈیکل سٹاف نے جیل روڈ مکمل بند کر دیں اس دوران پولیس کی بھاری نفری بھی بلا لی گئی جس کی موجودگی میں لواحقین ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کو گالی گلوچ دیتے رہے ،رات گئے تک احتجاج جاری رہا ۔ جاں بحق ہونے والا 30 سالہ خالد سمن آباد کا رہائشی تھا

5 روز قبل ٹریفک حادثہ ہونے پر ہسپتال داخل ہوا تھااس دوران اس کا علاج جاری تھا کہ اس کی موت واقع ہوگئی ،مبینہ طور پر اس دوران 30سے زائد لواحقین نے ڈاکٹروں اور لیڈی ڈاکٹروں سمیت پیرامیڈیکل سٹاف کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کی کال دی تو کچھ ہی دیر میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی اس سے قبل لواحقین جو لاش جیل روڈ پر رکھ کر احتجاج کر رہے تھے وہ میت لیکر چلے گئے ۔

جس کےبعد سے لیکراب تک میت والے گھر میں دہرے صدمے چھا گئے ہیں ایک تو ان کا پیارا دنیا سے چلا گیا ہے اوردوسرا ینگ ڈاکٹرز کے کام بند کرنے کی وجہ سے ضلعی حکومت ان کومنانے کےلیے ورثا کے خلاف مقدمہ قائم کرکے معاملے کوٹھنڈا کرنا چاہتی ہے

 

دنیا پوچھ رہی ہے کہ ڈاکٹروں کی رضا کی خاطرمیت والے گھرمیں پھرظلم وجبر کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے

یاد رہے کہ وقار نامی نوجوان کے تین بچے ہیں جو ایک طرف اپنے دنیا سے جانے والے باپ کے غم میں نڈھال ہیں تودوسری طرف ڈاکٹروں‌ کی خودغرضی اورہٹ دھرمی کے نتیجے میں‌ اپنے گھرمیں پولیس کودیکھ پریشان ہیں کہ یہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.