fbpx

شہباز شریف کابینہ ارکان کی تعداد عمران خان کی کابینہ سے تجاوز کرگئی

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کے ارکان کی تعداد سابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ سے تجاوز کرگئی ہے۔آئین کے آرٹیکل92کے تحت کابینہ میں وفاقی بشمول وزرائے مملکت کی کل تعدادمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مجموعی ارکان کے گیارہ فیصد سے زائد نہیں ہوسکتی۔

اس وقت قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد342اور سینیٹ کی 100ہے اس طرح پارلیمنٹ کے ارکان کی کل تعداد442ہے اس کا 11فیصد48 ارکان بنتے ہیں جبکہ آئین کی شق 93 کی ذیلی شق1کے تحت وزیراعظم زیادہ سے زیادہ 5مشیر مقرر کرسکتا ہے جس کے بعد کابینہ کی مجموعی تعداد 53بنتی ہے۔

شہباز شریف کابینہ میں34 وفاقی وزیر، سات وزرائے مملکت،4 مشیر جبکہ 17معاون خصوصی شامل جن کی مجموعی تعداد 62 ہوگئی ہے اور اگر معاونین خصوصی کی تعداد کو بھی کابینہ میں شمار کیا جائے تو شہباز شریف کابینہ کی تعداد آئین میں دی گئی تعداد سے تجاوز کرجاتی ہے۔

معاون خصوصی آئین کی بجائے رولز آف بزنس 1973 کی شق 4کی ذیلی شق 6کے تحت تعینات کئے جاتے ہیں جن کو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ دیا جاتا ہے مگر وہ کابینہ کے رکن شمار نہیں ہوتے اس لئے خصوصی معاونین کی تعداد کو کابینہ میں نہیں گنا جاتا۔

حکمران اتحاد کی تمام جماعتوں کو ایڈجسٹ کرنے کے دباؤ میں وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کی تعداد بڑھ کر62 ہو گئی جس کی وجہ سے وفاقی وزارتیں کم اور وفاقی وزراء کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔وزیر اعظم کے 17 معاونین میں سے صرف تین کے پاس قلمدان ہیں اور باقی 14معاونین خصوصی کے پاس کوئی قلمدان بھی نہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو ان کی کابینہ 52 ارکان پر مشتمل تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کی سبکدوشی کے وقت25 وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تعداد چار، چار اور معاونین خصوصی 19 تھے۔