fbpx

سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

 

حصہ اول:-                                                             

یہ بات آج سے سات سو بیس سال پہلے سنہ 1390 کی ہے جب دنیا کی دو طاقتور ترین سلطنتوں کی سرحدیں آپس میں ملتی تھی ایک طرف سلطنت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف تیموری سلطنت اس وقت سلطنت عثمانیہ کا سلطان بایزید اول تھا اور تیموری سلطنت کا سلطان ایک منجھا ہوا جنگجو امیر تیمور تھا ایک وہ تھا جو ایشیا کے بعد یورپ کے بڑے بڑے امپائر گرا رہا تھا اور دوسری طرف امیر تیمور جو بغداد سے دہلی تک اور عرب کے صحراؤں سے لیکر ازبکستان کے پہاڑوں تک تمام علاقے فتح کا چکا تھا اور اب یہ دونوں ایک دوسرے کی سرحد پر دستک دے رہے تھے یہاں پر آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں کہ جب یہ دونوں سلطان آمنے سامنے ہوئے تو ایک سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور کچھ سالوں بعد دوسرے کی سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی یہ کیسے ہوا بایزید اول اپنے بھائی کو قتل کر کے سلطنت عثمانیہ کا سلطان بن گیا تھا یہاں پر سلطنت عثمانیہ کو دو خطرے تھے ایک طرف کرمانی سلطنت  جو کہ سلطنت عثمانیہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی اور اس وقت کرمانی سلطنت کو مملوک سلطنت جو کہ مکہ اور مدینہ پر قائم تھی کی حمایت حاصل تھی اور اس وقت سلطنت عثمانیہ  نے کرمانی سلطنت کےپر حملہ کردیا اور کرمانی سلطان کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا قریب تھا کہ کرمانی سلطنت سرے سے ہی ختم ہو جاتی مگر ایسے میں آج کے ازبکستان سے ایک طوفان اٹھا اور خود عثمانی سلطنت ہی خطرے میں پڑ گئی اس کا نام تھا امیر تیمور لنگ

امیر تیمور ایک جنگجو سردار تھا جس نے اپنی جنگی مہارت کے باعث سمرقند پر قبضہ کر لیا اور اس کو اپنا ہیڈکوارٹر بنا دیا اور اس نے اپنی تیموری سلطنت کو  از بکستان پاکستان انڈیا افغانستان ایران ایراق آذربائیجان روس شام تک پھیلا لیا تھا  کل ملا کر بات کریں تو امیر تیمور چالیس سے زیادہ چھوٹے بڑے ملکوں اور ریاستوں پر قبضہ کر چکا تھا سن 1399  میں  تیموری سلطنت کی سرحدیں عثمانی سلطنت کو چھونے لگی تھی جو جو علاقے  عثمانیوں نے اپنے قبضے میں لیے تھے ان کے حکمران امیر تیمور کے پاس گئے اور جا کر عثمانی سلطان کے بارے میں بتایا امیر تیمور نے عثمانی سلطان کو خط لکھا اور خط میں اس  نے کہا کہ جو علاقے تم نے فتح کیے ہیں وہ اپنے پاس رکھو اور جو باقی علاقے رہ گئے وہ ان لوگوں کو واپس کر دو اگر نہیں تو میں خدا کا قہر بن کر تم پر نازل ہو جاؤں گا یہ خط عثمانی سلطان کے پاس پہنچا  تو اس خط کو پڑھ کر سلطان بایزید اول کو کہر چڑھ گیا کیونکہ آج تک کسی نے ایک سوپر پاور کو اس طرح نہیں للکارا تھا غصے میں آگ بھگولا  سلطان بایزید اول نے پہلا کام یہ کیا ک جو قاصد تیمور کا خط لے کر آئے تھے  ان کی داڑھیاں کاٹ دی اس کے بعد ان کو خوب بےعزت کیا اور دربار سے نکال کر واپس بھیج دیا یہ اس بات کا پیغام تھا کہ عثمانی سلطان بایزید اول کسی سے نہیں ڈرتا یہ ایک طرح کا طبل جنگ تھا لیکن جنگ سے پہلے آگ کو اور بھی بھڑکنا تھا اس کے بعد سلطان بایزید اول نے امیر تیمور کو ایک خط لکھااور اس خط میں لکھا کیوں کہ تمہاری لا محدود لالچ کی کشتی خود غرضی کے گھڑے میں اتر چکی ہے تو تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ اپنی گستاخی کے بادبانوں کو نیچے کر لو ورنہ ہمارے انتقام طوفان سے تم سزا کے اس سمندر میں غرق ہو جاؤ گے جس کے تم حقدار ہو یہ خط جب امیر تیمور تک پہنچا تو اس نے یہ خط پڑھ کر عثمان سلطان کو جنگ کا پیغام بھجوا دیا ادھر یورپی لوگ جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ لڑ رہے تھے اور اس جنگ کو مسلمان اور عیسائیت کی جنگ کہہ رہے تھے وہ بھی امیر تیمور کو خفیہ پیغام بھیجنے لگے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیں اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی سلطنت بیزنٹائن امپائر بھی تیمور کے ساتھ مل گئی اور اس نے چودہ سو ایک میں ترکی کے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا اور بہانہ اس کا یہ تھا کہ یہ علاقہ اسی کی ملکیت تھی جو عثمانیوں نے اس سے زبردستی چھین لی تھی اس کے بعد امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے ایک علاقے پر حملہ کر دیا اور زبردست جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر اپنا ٹریڈمارک چھوڑ دیا امیر تیمور کا ٹریڈ مارک خوف اور دہشت پھیلانا تھا اس نے چار ہزار لوگوں کو زندہ گاڑ دیا جس جگہ پر امیر تیمور نے قبضہ کیا اس کی ذمہ داری سلطان بایزید اول نے اپنے بیٹے ارطغرل کو دی ہوئی تھی تیمور نے بایزید اول کے بیٹے سمیت تمام جنگجوؤں کو ہلاک کردیا اور جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو ظاہر ہے اس کے پاس مقابلے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تھا اور وہ امیر تیمور کے تعاقب میں نکل پڑا اس کے ساتھ ستر ہزار فوج کا لشکر تھا بایزید اول ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ امیر تیمور کے لشکر کی جانب بڑھتا گیا اور انقرہ پہنچ کر اس نے ڈیرے ڈال دیئے اس کے بعد بایزید اول انقرہ سے آگے بڑھا اور امیر تیمور کے لشکر کے قریب ہوتا چلا گیا امیر تیمور اپنی فوج سمیت پیچھے ہٹنے لگا اور آہستہ آہستہ وہ اپنی تیموری سلطنت کے قریب پہنچ گیا اور یہاں پر آکر امیر تیمور اپنے لشکر سمیت اچانک کہیں غائب ہو گیا بایزید اول ہفتوں اس کا انتظار کرتا رہا کہ اتنے بڑے لشکر سمیت تیمور کدھر چلا گیا آخر کار چار مہینوں انتظار کے بعد سن چودہ سو دو میں میں بایزید اول کو پتہ لگ گیا کہ تیمور کا لشکر کہاں ہے مگر یہ خبر بایزید اول پر بجلی بن کر گری تیمور کا لشکر اس کے پیچھے سلطنت عثمانیہ کے شہر اور موجودہ ترکی کے دارالحکومت وقت انقرہ شہر پہنچ چکا تھا اور انقرہ شہر کا محاصرہ کر لیا تھا

جاری ہے……… 

Twitter id:  @Ali_AJKPTI 

https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!