fbpx

سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

–  

                                         Written by : Asghar Ali 

حصہ دوئم:-                                                          انقرہ شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا صرف یہی نہیں اس کے بعد امیر تیمور کی فوج نے سلطان بایزید اول کے واپسی کے راستے پر تمام فصلیں اور گودام جلا ڈالے اب سلطان بایزید اول کے لیے واپس انقرہ جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جس راستے پر امیر تیمور کی فوج  نے سب کچھ جلا دیا تھا اب نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی کچھ پینے کو اور تیموری لشکر ایک ایسی جگہ پر  تھا جہاں پر گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا اس جگہ پر امیر تیمور کو تین فائدے تھے نمبر ایک گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا نمبر 2 امیر تیمور کی فوج سلطان بایزید اول سے 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ اس فوج میں ہندوستان سے لائے گئے ہاتھی بھی شامل تھے نمبر تین  امیر تیمور کی فوج کو آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا اس کے مقابلے میں سلطان بایزید اول کی فوج کو دیکھیں اس مقام پر اس کو تین بڑے نقصان تھے ایک اس کی فوج منظم بھی نہیں تھی ایک لمبے سفر سے بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر رہی تھی دوسرا یہ یہ کہ لمبے سفر کے باعث بھوک اور پیاس سے بیس ہزار سپائی راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے تیسرا بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا وہ یہ کہ اس میں تین طرح کے لوگ تھے یعنی وہ فوج ایک منظم اور اکٹھی فوج نہیں تھی اس میں میں سب سے پہلے جینیسیریز تھے جو کہ وہ سلطان بایزید اول کے بھروسے کے لوگ تھے اس کے بعد وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جن کو پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت کسی بھی ٹائم ترک فوج کو چھوڑ سکتے تھے تیسرے وہ یورپی دستے جو سلطنت عثمانیہ کی وفاداری کے تحت اس کے ساتھ شامل تھے اب ڈیڑھ لاکھ تیموری فوج 70 ہزار  عثمانی فوج کے سامنے کھڑی تھی یہ بات دونوں سلطان بایزید اول امیر تیمور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری روئے زمین پر ان دونوں سے بڑی اور خطرناک سلطنتیں اور کہیں نہیں تھی دونوں سلطان جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے تھے آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اب جنگ باضابطہ طور پر شروع ہو چکی تھی پہلا حملہ امیر تیمور کی جانب سے ہوا مگر اس کو ترک فوج نے پسپا کردیا جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی امیر تیمور کا لشکر عثمانی سلطان کے لشکر پر حاوی ہوتا چلا گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ امیر تیمور کی فوج سلطان سلطان بایزید ثانی کی فوج کو شکست دینے لگی اب سلطان بایزید اول کے پاس چند ہی وفادار سپاہی بچے تھے جن کو جینسیریز کہتے تھے تیموری فوج طاقت کے ساتھ ساتھ تیرے برساتی رہیں لیکن کب تک جینسیریز ان کا مقابلہ کرتے جب سلطان نے دیکھا کہ امیر تیمور کی فوج حاوی ہونے لگی ہے تو وہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا یہاں پر پر اب امیر تیمور کی تیموری فوج جیت چکی تھی مگر سلطان بایزید اول ان کی حراست میں نہیں تھا اور ان کے سامنے سے زندہ فرار ہو چکا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہوا ایک ایک تیموری گھڑسوار نے بھاگتے ہوئے سلطان بایزید اول کے اوپر تیر برسایا جس کا گھوڑا زخمی ہو گیا اور سلطان زمین پر گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی اس سے بدترین شکست عثمانیوں کو آج تک نہیں ہوئی تھی اب سلطنت عثمانیہ کا سلطان امیر تیمور کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امید تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے لیکن امیر تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ تیمور کی اطاعت قبول کرتے رہیں گے سلطان بایزید اول یورپ کا بہت بڑا فاتح تھا اور وہ یہ اذیت برداشت نہ کر سکا اور چند ماہ بعد دوران قید ہی مر گیا اس کے کچھ ہی ماہ بعد1405 میں امیر تیمور بھی مر گیا اس کے بعد تیموری سلطنت کافی حصوں میں ٹوٹ کے بکھر گئی جب کہ سلطنت عثمانیہ بھی سلطان بایزید اول کے تینوں بیٹوں میں بٹ چکی تھی  بھائی بھائی کے خون کا پیاسا تھا اور پوری سلطنت خانہ جنگی میں چلی گئی لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ٹوٹی نہیں اس کی وجہ  تھی کہ یورپ میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں تھی جو سلطان بایزید کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ پر قبضہ کرتی اور دوسرا یہ کہ امیر تیمور اور اس کے ساتھی بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر  عثمانی سلطنت پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ترک سلطنت کو تیمور اور اس کے جانشینوں نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا تو بہرحال بایزید کے چار بیٹے محمد اول عثمان عیسی اور موسی کے درمیان اگلے 11 سال تک خونریز جنگ ہوتی رہی اس میں عثمان عیسی  مارے گئے اور موسی فرار ہوگیا اور محمد اول بچ گیا اس طرح سلطنت عثمانیہ کو ایک نیا سلطان محمد اول مل گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں چودہ سو چودہ میں نمودار ہوگی سلطان محمد اول نے ایک تاریخی کام کیا کہ اس نے ترکوں کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی آج ہم ترکوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سلطان محمد اول کی مرہون منت ہے

Twitter id:    @Ali_AJKPTI

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!