fbpx

وزیراعظم نےاقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل نو کی منظوری دے دی:شوکت ترین ، اہم ترین بن گئے

اسلام آباد:وزیراعظم نےاقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل نو کی منظوری دے دی:شوکت ترین ، اہم ترین بن گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل نو کی منظوری دے دی۔

اس حوالے سے اسلام آباد سے اہم ذرائع کے مطابق خزانہ ڈویژن سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان، کونسل کے چیئرمین اور وزیر خزانہ و محصولات نائب چیئرمین ہوں گے۔

وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں وزیر خزانہ کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جبکہ کونسل میں سرکاری اور نجی شعبے کے اراکین شامل ہوں گے۔

اقتصادی مشاورتی کونسل، حکومت پاکستان کے ساتھ مشاورتی و استعداد کار میں اضافے پر مبنی تعلقات کار کے لیے کام کرے گی اور کُلی معیشت کے استحکام کے لیے اقدامات کی سفارش کرے گی تاکہ پائیدار اور مضبوط اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جاسکے۔

 

 

وزیراعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی نئی کونسل، اقتصادی اداروں کے ساتھ مل کر اور ہم آہنگ انداز میں کام کرے گی، اقتصادی مشاورتی کونسل مشاورتی عمل کی پیروی کرتے ہوئے مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں کے شہریوں پر فلاحی اثرات میں اضافے کے لیے پالیسی اقدامات کی سفارش کرے گی، جبکہ اس کا بنیادی و حتمی ہدف تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مضبوط تجزیاتی اور شواہد پر مبنی اصلاحات و اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزارت خزانہ کونسل کے لیے مرکزی ایجنسی کے طور پر کام کرے گی۔

خزانہ ڈویژن نے کہا کہ کونسل کی تشکیل نو کا مقصد پائیدار ادارہ جاتی اصلاحات اور سرکاری شعبے کی جدت کے ضمن میں قیادت کے ویژن کے مطابق غیر جانبدارانہ انداز میں فعال اور معلومات پر مبنی بحث و مباحثے کے بعد مضبوط پالیسی سازی، تجزیاتی موزونیت و نگرانی پر مبنی اقتصادی اصلاحات کی تدوین ہے۔

 

 

 

واضح رہے کہ چند روز قبل یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ وفاقی کابینہ میں غیر متوقع طور پر تبدیلیوں میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی حالیہ برطرفی کے بعد حکومت نے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اقتصادی مشاورتی کونسل تشکیل دینے جارہے ہیں جس کی سربراہی شوکت ترین کریں گے۔

حکومت نے شوکت ترین کو وزیر اعظم کے معاون یا مشیر کی حیثیت سے وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کی پیش کش بھی کی تھی لیکن انہوں نے وفاقی کابینہ میں شمولیت کو احتساب کے اس ریفرنس کے فیصلے کے ساتھ جوڑ دیا جس کا انہیں ایک دہائی سے سامنا ہے۔

شوکت ترین نے تصدیق کی تھی کہ وہ اگلے دو سے تین دن میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی سربراہی کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا میں کونسل کا کنوینر بنوں گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.