fbpx

سندھ کوپیرس بن جاناچاہیےتھامگرافسوس کچھ بھی نہ بن سکا :چیف جسٹس کےریمارکس نےجھنجھوڑکررکھ دیا

اسلام آباد: سندھ کو پیرس بن جانا چاہیے تھامگرافسوس کچھ بھی نہ بن سکا:چیف جسٹس آف پاکستان کےریمارکس نےجھنجھوڑ کررکھ دیا ،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی تعلیم، صحت سے متعلق رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔

سپریم کورٹ میں کورونا وائرس ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی جس کے دوران حکومت سندھ نے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر اخراجات سے متعلق اپنی رپورٹ جمع کرائی۔ عدالت نے یہ رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ حکومت سندھ نے اپنی رپورٹ میں تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں خطیر رقم کرنے کا ذکر کیا ہے، جتنے پیسے آپ نے خرچ کرنے کا بتایا ہے سندھ کو تو پیرس بن جانا چاہئے تھا،

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے اس رپورٹ کے متعلق گفتگوکرتےہوئےکہا کہ سندھ حکومت کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2013 اور 2017 میں تعلیم پر دو ہزار 6 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے،

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سندھ کے تعلیمی اداروں کو ہارورڈ بن جانا چاہئے تھا، جتنا پیسہ خرچ کیا سندھ میں اسکولوں کی صورت میں محلات تعمیر ہو جانے چاہئے تھے

اس موقع پرچیف جسٹس نے کہا کہ اتنی بڑی رقم اگراس کا اصراف ٹھیک ہوتا توآج سندھ کی شرح تعلیم سو فیصد ہونی چاہئے تھی، سندھ میں سارا پیسہ تو تنخواہوں میں جاتا ہے، ایڈوکیٹ جنرل سندھ کیوں پیش نہیں ہوئے؟۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے، ملک آگے کی بجائے پیچھے کی طرف جارہا ہے اور قوم تعلیم حاصل کرنے کی بجائے تعلیم کے زیورسے محروم ہورہی ہے ، بس اللہ ہی حافظ ہے ورنہ سابقہ حکمرانوں نے پاکستان کی تباہی میں کوئی کسرنہیں چھوڑی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.