fbpx

سعودیہ اسرائیل تنازع ختم، امریکا کا 2 جزائر سے فوج بلانے کا اعلان

ریاض :امریکا نے سعودی عرب، مصر اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی وجہ بننے والے جزائر تیران اور صنافیر سے امن افواج واپس بلالیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحیرہ احمر میں واقع خصوصی اہمیت کے حامل جزائر تیران اور صنافیر پر نصف صدی سے سعودی عرب اور مصر کے درمیان ملکیت کا تنازع ہے۔ بعد ازاں اسرائیل بھی اس میں پارٹی بن گیا تھا۔ مصر نے دونوں جزائر کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن اسرائیل نے یہ جزائر سعودی عرب کو دینے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی تاہم امریکی ثالثی کے باعث اسرائیل نے جزائر سعودی عرب کو واپس کرنے سے متعلق اعتراض واپس لے لیا۔

جزائر کی سعودی عرب کو واپسی اسرائیل اور سعودیہ کے درمیان تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر مشرق وسطی کا 4 روزہ دورے میں اسرائیل، فلسطین اور سعودی عرب پہنچے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کی پروازوں پر عائد پابندیاں ختم کردی ہیں اور جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے بحال ہوجائیں گے۔

امریکا اور سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق،اطلاعات کے مطابق اس وقت امریکی صدر سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور خطے کے سیکورٹی کے معاملات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی لین دین اورعالمی تجارتی معاہدوں کی توثیق کررہے ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کی جانب سے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

امریکی اور سعودی حکام اس معاملے کو بڑی اہمیت دے رہیں اس حوالے سے مزید پیش رفت بھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دفاع کے لیے فوجی سازوسامان مہیا کرے گا اور خطے میں ایران کی مداخلت روکنے اور ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کے لیے دونوں ملکوں کی جانب سے مل کر کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے، توانائی، سکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلیوں، انسانی بحران اور عالمی تنازعات طے کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پربھی اتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کی درمیان سیاحتی اور تجارتی ویزوں میں دس سال کی توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن بطور صدر مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر تھے اور اس دوران وہ اسرائیل بھی گئے تھے۔امریکی صدر بائیڈن مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہوگئے ہیں، بائیڈن نے چار روز مشرق وسطیٰ میں گزارے۔