واشنگٹن میں سیکورٹی صورتحال روزبروزبگڑنے لگی،سینیٹ نے خدشے کااظہارکردیا

واشنگٹن:واشنگٹن میں سیکورٹی صورتحال روزبروزبگڑنے لگی،سینیٹ نے خدشے کااظہارکرتے ہوئے اہم کام کردیا،اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ کی دو کمیٹیاں منگل کے روز 6 جنوری کو امریکی دارالحکومت پر ہونے والے حملے کی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جاری ریڈالرٹ کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ادھر ذرائع کے مطابق ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی اور گورنمنٹ افیئرز کمیٹی کے سامنے گواہی دینے کے لئے شیڈول میں سابق سینیٹ سارجنٹ اٹ آرمس مائیکل اسٹینگر اور سابق ہاؤس سارجنٹ اٹ آرمس پال ارونگ ، نیز سابق کیپٹل پولیس چیف اسٹیون سند اور میٹرو پولیٹن محکمہ کے قائم مقام چیف رابرٹ شامل ہیں

سینیٹر ایمی کلوبوچر نے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ قانون سازوں پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی کہ کس طرح سکیورٹی ایجنسیوں نے حملے سے قبل معلومات کو شیئر کیا ، نیشنل گارڈ کے دستوں کی بھرمار کیپٹول پولیس افسران کی مدد کے لئے اور کیا کیپٹل سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کی یہ کمزوری تھی کہ اتنا بڑا سانحہ ہوگیا

کلو بچار نے یہ بھی کہا کہ پینل اپنی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر کم از کم ایک اور سماعت کریں گے جس میں محکمہ دفاع ، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں‌ حملہ اس وقت ہوا جب اندرون پارلیمنٹیرین نومبر کے انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر صدر جو بائیڈن کی انتخابی جیت کی خبریں سنتے ہوئے اس وقت مشتعل ہوگئے تھے جب یہ خبریں آنا شروع ہوئی کہ ٹرمپ کو ہرانے کے لیے سازشیں ہوری ہیں‌ ۔

اس موقع پر ان شرپسندوں نے کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیئے اور افسران کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس سے درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ کانگریس کے ممبران اپنے چیمبروں سے بھاگ گئے اور ووٹوں کی سرٹیفیکیشن ختم کرنے کے لئے گھنٹوں بعد واپس جانا پڑا۔

اس تشدد سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ، ایک کیپیٹل پولیس آفیسر بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھا

دوسری طرف امریکی سینیٹ اس بات پرپریشان ہے کہ اس وقت توٹرمپ کے حامیوں کی وجہ سے حالات اس قدرخراب تھے مگراب کیوں واشنگٹن میں بے چینی پائی جارہی ہے اورحالات خراب ہوتے نظرآرہے ہیں‌

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.