کابل میں پاکستانی سفارتخانےکےناظم الامورکی حفاظت پرمامورایس ایس جی کمانڈو کی بہادری کی لازوال داستان

0
61

لاہور:کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامورکی حفاظت پرمامورایس ایس جی کمانڈو کی ایسی داستان جوپہلے نہ سن سکے،یہ داستان پرانی نہیں کل کی بات ہے جب کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی مذمت کی ہے جس میں مشن کے سربراہ عبیدالرحمان نظامانی کو نشانہ بنایا گیا۔

کابل میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پاکستانی مشن کے سربراہ عبید الرحمن نظآمانی نے اپنے اوپر ہونے والے اس حملے کا جہاں آنکھوں دیکھا منظر پیش کیا ہے وہاں اس جانثارکے جزبہ اورقربانی کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے کہ جس نے پاکستانی مشن کے سربراہ عبید الرحمن نظامانی کو بچاتے بچاتے اپنے جسم میں گولیاں پیوست کروالیں

اس بہت بڑے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کابل میں پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ عبید الرحمن نظآمانی کہتے ہیں کہ پہلے میں‌ پاکستان کے ان شیرجوانوں کی داستانیں سنا کرتا تھا ،کہ پاکستانی فوج کے ایس ایس جی کے کمانڈوز کس طرح دنیا میں اپنی بہترین تربیت کا لوہا منوا چکے ہیں ، مگرکل میں نے یہ منظراپنی آنکھوں سے دیکھا جب مجھے مارنے کی کوشش کی گئی تو یہ پاکستان کو جوان ، ایس ایس جی کا کمانڈو جس کے جسم میں گولیاں پیوست ہورہی تھیں مگروہ پھر بھی اتنی بڑی تکلیف کے باوجود میری حفاظت کررہا تھا اور جو گولیاں مجھے ماری جارہی تھیں اس کے جسم میں پیوست ہورہی تھیں

کابل میں پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ منظر کبھی بھی نہیں بھول سکتے جب دشمن فائرنگ کررہا تھا تو وہ میرے وطن کا وہ ہیرو وہ جوان ایس ایس جی کا کمانڈو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میرے اور قاتل کے درمیان آہنی دیوار بن کرکھڑا رہا ، ان کا کہنا تھاکہ ایک لمحہ بھی اس نے میرے دفاع میں سستی کا مظاہرہ نہیں کیا ،کیا کمال کی تربیت اور وفاداری ہے میرے وطن کے ان شاہینوں کے دلوں‌ میں

 

 

کابل میں پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ نے اس حوالے سے خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا کہ میں اس شاہین کو بھی سلام پیش کرتا ہوں اور ان کو بھی جہنوں نے ہمارے بچوں کی اس انداز سے تربیت کی ہے کہ دشمن بھی ان کی ہیبت سے کانپتا ہے اور وہ نوجوان اپنے ملک وقوم کی حفاظت کرنے میں کسی قسم کی سستی کا مظاہرہ نہیں کررہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ ان نوجوانون کی تربیت کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں

امریکی صدر کے بیان کے بعد روس کی یوکرین سے مذاکرات پر مشروط آمادگی

یاد رہے کہ کل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان سفارت خانے پر ہونے والے حملے میں ایک پاکستانی سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہوا ہے۔حکومت پاکستان کے مطابق اس ’قاتلانہ حملے‘ کا مقصد کابل کے سفارت خانے میں موجود ہیڈ آف مشن (ناظم الامور) عبید الرحمان نظامانی کو نشانہ بنانا تھا مگر وہ محفوظ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ عبدالرحمان نظامانی نے گذشتہ ماہ چار نومبر کو ہی کابل سفارت خانے میں بطور ہیڈ آف مشن اپنے کام کا آغاز کیا ہے۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت پر ہونے والے حملے میں عبید الرحمان نظامانی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

قندھارمیں پاکستانی قونصل خانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ’’ہیک‘‘ کرلیا گیا

Leave a reply