محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی بے نظیر جدوجہد کی کہانی

کراچی : اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اورپیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا سفرزندگی بہت ہی دلچسپ اوراہم ہے ،

 

سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو سندھ کے سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور روالپنڈی سے حاصل کی اور اس کے بعد مری کے جیسس اینڈ میری سے 15 سال کی عمر میں اولیول کا امتحان پاس کیا ۔ ہارورڈیونیورسٹی سےپولیٹیکل سائنس میں گریجویشن اوراس کے بعدآکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔

 

 

1977 میں محترمہ اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی ، مگر کچھ عرصے میں ہی جنرل ضیاء الحق نے ان کے والد ذوالفقار بھٹو کو جیل بھیج کر ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ بینظیر بھٹو کو ان کے گھر نظر بند کر دیا ۔1979 میں ذو الفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازع کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔

1981 میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف 14 اگست 1983 سے بھر پور جدوجہد کا آغاز کیا گیا اور پھر تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی جتوئی نے دسمبر 1983 میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔

1984 میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے انہیں پارٹی کا شریک چئیرمین بنا دیا۔ ملک سے مارشل لاء ختم ہوجانے کے بعد بے نظیر وطن واپس آئیں ۔1987میں محترمہ آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاسی جدوجہد بھی جاری رکھی ۔

17 اگست1988میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی صورتِحال بدل گئی اور سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جنہوں نے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔

16 نومبر1988 کو ملک میں عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور بینظیر بھٹونے 2 دسمبر 1988 کو 35 بر س کی عمر میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا اور وہ ایک مسلمان ریاست کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بھی تھیں۔

اگست،1990 میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا اور انتخابات میں اکثریت حاصل کی ۔ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔

1993 میں صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر1993 میں عام انتخابات ہوئےاور بے نظیر نے ایک مرتبہ پھر وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا۔1996 میں پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

 

بینظیر بھٹو نے اپنے بھائی مرتضٰی بھٹو کے قتل اور اپنی حکومت کے خاتمے کے کچھ عرصہ بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں قیام کیا۔ 18 اکتوبر2007 ، پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئیں تو ان پر کراچی میں حملے کی کوشش کی گئی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ جلسے سے خطاب کے بعد روانہ ہوئیں ۔لیاقت روڈ کے قریب جیالوں کا جم غفیر دیکھ کر بے نظیر بھٹو ان کے نعروں کا جواب دینے کے لئے اپنی گاڑی کی چھت کھول کر باہر نکلیں، اسی لمحے مجمع میں ایک دہشت گرد بھی موجود تھا، جس نے 2 سے 3 میٹر کی دوری سے بینظیر بھٹو کو گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا اور خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔بے نظیر بھٹو کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 27 دسمبر 2007 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔

بینظیر بھٹو اپنے والد ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد آمریت کیخلاف طویل جدوجہد کے باعث تین دہائیوں تک پاکستان کی سیاست پر چھائی رہیں۔بینظیر بھٹوآج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اوران کی جدوجہد کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.