fbpx

چین کےخلاف امریکہ اوراتحادیوں کوجنگ کا جوازمل گیا:گھیرا ڈالنے کے لیےخطرناک منصوبوں پرکام شروع

واشنگٹن:چین کے خلاف امریکہ اوراتحادیوں کوجنگ کا جوازمل گیا:گھیرا ڈالنے کے لیے مفروضوں پرکام شروع،اطلاعات کے مطابق امریکہ اوراتحادیوں نے چین کے خلاف ایک خطرناک جنگ لڑنے کا منصوبہ بنا لیا ہے اوراس منصوبے پرکام شروع ہوچکا ہے

معتبرذرائع کےمطابق اس منصوبے کے تحت چین پرپہلے توایسی پابندیاں لگیں گی کہ جن کی وجہ سے چین کومعاشی طورپرکمزورکرنے کی کوشش کی جائے گی اوردوسری صورت میں ان پابندیوں کےساتھ ساتھ چین کی بحری ناکہ بندی کی جائے گی

باغی ٹی وی کےمطابق یہ بہانہ یہ جواز”کرونا”وائرس ہے جس کا ملبہ چین پرڈالنے کے لیے امریکی ادارے ملک کرایسے مفروضوں‌پرکام کررہےہیں کہ جن کومنظرعام پرلانے کے بعد اس کو حقیقت کی شکل دی جائے گی

اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے اس خطرناک منصوبے پرعمل درآمد اس وقت شروع کیا جائے گا جب امریکہ اوردیگراتحادی کرونا وبا سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے اورپھراس کے بعد اسی وبا کو چینی کی طرف سے بائیولوجیکل ہتھیاراستعمال کرنے کا الزام لگا کردنیا کوایک پلیٹ فارم پراکھٹا کیا جائے گا

اد اس حوالے سے معتبرذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس سلسلے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ماہرین کرونا وائرس کو چین کے کھاتے میں ڈالنے کے لیے کئی مفروضوں پرکام کررہے ہیں

اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پہلا جو جوازتیارکیا جائے گا اس کے مطابق

کرونا وائرس کی تیاری کا الزام چین پرلگانے کے لیے وہان میں قائم لیبارٹری کی تحقیقات کرنے کی اجازت نہ دینے کو پہلا جواز قراردیا جائے گا اوریہ بھی کہا جائے گا کہ چین اپنے جرائم پرقابوپانے کے لیے ماہرین کواجازت دینے سے انکاری ہے اوریہ عالمی قوانین کے خلاف ہے

دوسرا یہ جوازتیارکیا جارہا ہے کہ کرونا وائرس چینی سائنسدانوں نے چینی ا فواج کے لیے بائیولوجیکل ہتھیار کے طورپرتیارکرکے دیا ہے جو دنیا میں آزمایا گیا ہے

یہ ایک جنگی جرم کےطورپردنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا

اس کے بعد یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کرکچھ چینی سائنسدانوں کی حوالگی کا بھی مطالبہ کرے گا اورلامحالہ چین یہ مطالبہ قبول کرنے کے لیے تیارنہیں ہوگا توپھراس انکار کو جوازبناکرپابندیاں لگانے کا مطالبہ دہرایا جائے گا

اس کے بعد ساتھ ہی امریکہ میں تیارہونے والی اس سازش کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے ذریعے یہ قراردپیش کی جائے گی کہ عالمی برادری کو چین کے ایغورمسلمانوں سے ملنے اوران کے مسائل جاننے کےلیے وفود کووہاں جانے کی اجازت دی جائے یہ بھی مطالبہ قبول نہیں کیا جائے جس کے بعد چین کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ زورپکڑجائے گا

ادھر متعبر ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ان منصوبوں کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ میں چینی مداخلت کو بھی جوازبناکرہانگ کانگ کوعلیحدہ سے ایک ریاست کے طوردنیا کے نقشے پرلانے کا منصوبہ تیارہوچکا ہے اس منصوبے کے منظرعام کے آنے کےساتھ ہی چینی افواج ہانگ کانگ میں اتریں گی اوریوں اسے ایک تنازعہ بناکرچینی افواج کووہاں سے نکالنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت امریکی اتحاد کے پلیٹ فارمز کواستعمال کیا جائے گا

یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ تائیوان کے حوالے سے تیار ہونے والے منصوبے کے مطابق تائیوان میں مداخلت عالمی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا جائےگا اوربازنہ آنے کی صورت میں چین کے خلاف پابندیوں کے منصوبوں کوزیادہ موثرکرنے میں مدد ملے گی

اس کے علاوہ پہلے سے جاری پابندیوں کوبھی جواز کے طورپرپیش کیا جائے گا ، جس کےتحت چین کوعملدرآمد سے انکاری قراردے کرچین کے خلاف گھیرابندی کی جائے گی اورچین کومعاشی طورپرتباہ کرنے کی کوشش کی جائےگی

امریکی چھتری کے نیچے اس بلاک میں شامل 50 سے زائد ممالک کے اتحاد کی صورت میں اس کے اثرات بلا شبہ پاکستان پربھی ہوں‌گے پاکستان کوچین سے دوررہنے کی دھمکیاں‌بھی ملیں گی اورپاکستان کے خلاف مزید معاشی ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جائیں گے تاکہ چین دنیا میں تہنا رہ جائے

دوسری طرف اس وقت بیجنگ اوراسلام آبادامریکہ کے اس منصوبے کا توڑکرنے کے لیے پہلے ہی سرجوڑ کربیٹھے ہیں اورچین نے خطےمٰں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے پہلے ہی کام شروع کردیا ہے

ادھرعالمی دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ امریکہ اورچین کے درمیان بات چیت کے دروازے بند ہوجائیں گے اورچین ایک حد سے زیادہ عالمی دنیا کواپنے معاملات میں دخل کی اجازت نہیں دے سکتا اس صورت میں مخالف اتحاد کوچین کے خلاف بحری ناکہ بندی کی طرف لے آئیں گے اورپھرہہیں سے باقاعدہ جنگ شروع ہوجائےگی جو پھرعالمی جنگ کی شکل اختیارکرجائے گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.