fbpx

امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

واشنگٹن: امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب روس کے یوکرین پرحملے کے جواب میں امریکہ ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نے روس کے ایٹمی حملوں کے جواب میں ایٹمی حملے سے زیادہ سخت جوابی حملہ کرکے عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

امریکہ نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج یوکرین بھجوانے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو روسی توانائی کے شعبے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

روس کی سب سے زیادہ کمائی تیل کی برآمد سے ہوتی ہے۔ لنڈسے گراہم نے کہا کہ ’ہم توانائی کے شعبے کو ہتھیار کے طور پر نہیں استعمال کر رہے۔ ہم پوتن کو نشانہ نہیں بنا رہے جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچ سکتی ہے۔‘

منگل کو متعدد کمپنیوں کے روس میں اپنے دفاتر بند کرنے کا ارادہ ہے جس سے ملک کی معیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ بڑے بینکوں، ایئر لائنز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے شپمنٹ معطل کرنے کے علاوہ روس کے ساتھ شراکت داری ختم کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

امریکہ نے روس کے مرکزی بینک اور آمدنی کے دیگر ذرائع پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے روسی روبل کی قدر میں مزید کمی آئی ہے جبکہ چند روسی بینکوں کو عالمی ترسیلات زر کا نیٹ ورک ’سویفٹ‘ کے اسستعمال سے روکا گیا ہے۔

علاوہ ازیں برطانوی تیل کی کمپنیوں بی پی اور شیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں۔

روس ثقافتی اور سپورٹس کی سطح پر بھی عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہالی وڈ کے دو بڑے سٹوڈیوز ڈزنی اور وارنر بروس نے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز روس میں معطل کر رہا ہے۔

ڈزنی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث روس کے تھیٹر میں ’ٹرننگ ریڈ‘ سمیت دیگر آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز معطل کر رہے ہیں۔

روسی حکومت سے منسلک میڈیا اداروں کی جانب سے معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ مائیکروسافٹ نے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کی رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے