fbpx

امریکہ اپنے ہی بنائے ہوئے ایف 35 میں چین کے بنے ہوئے پرزے سے خائف

واشنگٹن:امریکہ اپنے ہی بنائے ہوئے ایف 35 میں چین کے بنے ہوئے پرزے سے خائف ،اطلاعات کے مطابق امریکی پینٹاگون کوفائیٹر طیارے بنانے والی کمپنی نے اب تک جتنے بھی ایف 35 طیارے فراہم کیے ہیں ان میں استعمال کردہ ایک پرزہ چین کا بنا ہے۔ امریکی افواج کے استعمال میں آنے والے ان جنگی طیاروں کی مانیٹرنگ کے ذمہ دار ادارے کا کہنا ہے یہ چیز امریکی قانون کے علاوہ پینٹا گون کے قواعد کے مطابق بھی ممنوعہ ہے۔

اس پرزے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک مقناطیس ہے جو طیارے کی رفتار کو تیز کرنے اور طاقت دینے کے لیے کام آتا ہے۔ یہ ڈیوائس ہنی ویل انٹر نیشنل کی طرف سے طیارہ ساز کمپنی مارک ہیڈ کو فراہم کی جاتی ہے۔ طیاروں کی ساخت میں یہ پرزہ 2003 سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس لیے پینٹاگون نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ نئے ایف 35 طیاروں کی اپنے لیے نئی ڈلیوری پر پابندی لگا دی ہے تاکہ یہ یقینی بنا سکے کہ اس چیبی ساختہ ڈیوائس کا ممنوعہ استعمال اب نہیں کیا جا رہا ہے اور قواعد کی پابندی کی جارہی ہے۔

بتایا گیا کہ ان طیاروں سے متعلق معاملات کی نگرانی کرنے والے ایف 35 پروگرام کو تقیبا 3300 طیاروں کی ڈلیوری ممکن بنانے کے لیے پینٹا گون سے اجازت لینا ہو گی کہ ان طیاروں کو اس پابندی سے محفوظ بنا دیا جائے۔

ایف 35 پروگرام نہیں دیکھتا کہ پہلے سے فراہم کر دیے گئے ان طیاروں کے یہ ممنوعہ پرزہ تبدیل کیا جا سکے گا۔ اس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس پرزے کی تبدیلی ایک مہنگی چیز بھی ہو گی اور اس میں وقت بھی کافی لگ جائے گا۔مزید کہا گیا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جاری ہیں کہ امریکی قانون کا اس سلسلے میں کیوں خیال نہیں رکھا جا سکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پرزہ چین ، ایران، شمالی کوریا روس میں بطور خاص بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کے بارے میں دس سال پہلے بتا دیا گیا تھا۔ جبکہ 19 اگست کو پچھلے ماہ ایف 35 پروگرام آفس نے نشاندہی کی تھی۔ لیکن یہ کمپنی جو پہلے ہی تاخیر کر رہی ہے اور طیاروں کی لاگت بڑھتے جانے کا رونا روتی رہتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔اگرچہ یہ سوال سپلائی چین سکیورٹی کہ کیا وجہ تھی کہ ہنی ویل کو امریکی قانون کے بارے میں بے خبر رہی۔ حالانکہ چین امریکہ کے لیے عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ ہے۔

جب پینٹا گون کی طرف سے بدھ کے روز اس امر کا اعلان کیا گیا تو ہنی ویل نے کہا وہ پینٹا گون اور لاک ہیڈ کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں کمٹڈ ہے کہ اس نے اعلی ترین معیارکی مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ترجمان ایڈم کریس نے کہا کمپنی اس کے علاوہ مزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔