fbpx

عالمی ادارۂ صحت نے پھر کورونا خطرےکی گھنٹی بجا دی

نیویارک:عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے پوری دنیا میں ایک بار پھر کورونا وائرس کے انفیکشن کی نئی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے اس بار کووڈ-19 کی نئی لہر میں مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

ڈبلیو ایچ او نے Omicron کے نئے ذیلی قسم XBB.1.5 کو اب تک کی سب سے زیادہ متعدی شکل کے طور پر سمجھا ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ ہر دوسرے ہفتے اس سے متاثرہ افراد کی تعداد دوگنی ہو رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے شمال مشرقی امریکہ کو XBB.1.5 ذیلی قسم سے سب سے زیادہ متاثر قرار اس کے تیزی سے پھیلنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط…

کورونا انفیکشن کے معاملے میں چین کو بھی پوری دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی اہلکار ماریا وان کرخوف نے کہا کہ اومیکرون کا نیا ذیلی قسم XBB.1.5 اب تک کورونا کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی شکل ہے اور ادارے کے پاس فی الحال اس ذیلی شکل کی شدت سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔

کورونا کا خدشہ؛ اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ شروع کردی گئی

بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت امریکہ میں XBB.1.5 کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے جس نے صحت کی تنظیم کو پریشان کر دیا ہے۔ ماریہ نے بتایا کہ یہ وائرس خلیات سے غیر معمولی طور پر چپک جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے آسانی سے تبدیل ہونے میں مدد ملتی ہے۔