fbpx

جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور:3 نابینا افراد کی دنیا روشن ہو گئ

جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور حکومت پنجاب کی ہدایت پر کارنیا ٹرانسپلانٹ کا نشتر ہسپتال میں آغاز۔3 نابینا افراد کے آنکھوں کے شفاف پردے کی کامیاب پیوندکاری کردی گئ۔10 سالہ مہرین،27 سالہ علیم،32 سالہ سلیم اختر کی دنیا روشن ہو گئ۔کمشنر جاوید اختر محمود کی مریضوں سے ملاقات، سہولیات بارے بات چیت، مبارکباد دی۔کمشنر ملتان کا کہنا تھا کہ کارنیا ٹرانسپلانٹ سے اس خطے کے لاکھوں مریضوں کو نئی زندگی ملے گی۔

کشمنر ملتان کا کہناتھا کہ عبدالستار ایدھی نے اپنی دونوں آنکھیں عطیہ کی تھیں۔وزیراعلی پنجاب صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کررہے ہیں۔پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے خط لکھا گیا تھا۔احمد حسین ڈیہڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر نشتر ہسپتال میں آنکھوں کے شعبے میں جدت لائ جارہی۔ڈاکٹر رانا الطاف کا کہنا تھا کہ پہوٹا کی اجازت کے بعد نشتر ہسپتال میں 3 مریضوں کی کارنیا پیوندکاری کی گئ۔

پروفیسر ڈکٹر راشد قمر راؤ کی سربراہی میں 3 مریضوں کی کامیاب سرجری کی گئ۔وی سی نشتر رانا الطاف نے کہنا تھا کہ مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئ ہیں۔اس موقع پر آئی سرجن کا کہنا تھا کہ آنکھوں کا عطیہ کرنے سے بہت سارے اندھے لوگوں کو روشنی مل سکتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ نے کہا پاکستان میں بعد از موت آنکھوں کے عطیات جانب لوگوں کا رجحان نہیں ہے۔

کارنیا کی پاکستان میں عدم دستیابی سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔مخیر حضرات کے تعاون سے آنکھوں کا بینک قائم کیا جاسکتا ہے۔وفات پاجانے کے بعد انسانی آنکھیں 12 سے 24 گھنٹے تک زندہ رہتی ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت پر بلامعاوضہ سرجری کی جارہی ہے۔ابتک 130 مریض کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے رجوع کر چکے ہیں۔آئ سرجن ڈاکٹر راشد راؤ کا کہنا تھا کہ ا ب تک 1000 ہزار سے زائد انکھ کے ریٹینا کی سرجری کی جاچکی ہے۔