fbpx

پی ٹی وی میں خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد:پی ٹی وی میں خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کا فیصلہ بڑی تفصیل کے ساتھ جاری کردیا گیا ہے جس میں سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انسانی زندگی اس دن ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے جب اہم واقعات پر خاموشی اختیار کر لی جائے،

یاد رہے کہ پی ٹی وی کی 5 خواتین نے کٹرولر انچارج اطہر فاروق بٹر کے خلاف جنسی ہراسگی کی درخواست دائر کی تھی، اس سلسلے میں آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے

 

سپریم کورٹ کی طرف سے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ثابت ہے کہ پی ٹی وی میں خواتین کو عہدے دینے کی لالچ میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، سپریم کورٹ نے ہراساں کرنے والے اطہر فاروق بٹر کو 6 خواتین کو 5،5 لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے

اس اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے خواتین کے ورک پلیس ہراسمنٹ سے تحفظ کے بل 2022 کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورک پلیس ہراسمنٹ سے تحفظ کے بل میں ہراسگی کے خلاف شکایت کا حق دینا قابل تعریف ہے، خواتین کے ورک پلیس ہراسمنٹ سے تحفظ کے بل میں کسی بھی قسم کی تفریق کو بھی ہراسگی قرار دیا گیا ہے،

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے جو ترامیم کی گئیں ان پر عمل بھی ہوگا،سپریم کورٹ کہ طرف سے کہا گیا ہے کہ امید ہے کہ ایکٹ سے خواتین اور خواجہ سراؤں کی آزادی، مساواتی حیثیت اور سماجی انصاف کا بول بالا ہوگا، خواتین کا خطرات اور ہراسگی سے پاک ماحول میں کام کرنا ان کا آئینی حق ہے،

سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انسانی زندگی اس دن ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے جب اہم واقعات پر خاموشی اختیار کر لی جائے، یاد رہے کہ پی ٹی وی کی 5 خواتین نے کٹرولر انچارج اطہر فاروق بٹر کے خلاف جنسی ہراسگی کی درخواست دائر کی تھی، آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے