fbpx

بھاگ کر شادی کرنے میں کوئی عزت نہیں: نور بخاری کا دُعا زہرہ کو پیغام

پاکستان شوبز انڈسٹری کی سابقہ اداکارہ نور بخاری نے دُعا زہرہ کے لیے پیغام جاری کردیا ہے۔اداکارہ نور بخارہ نے کہا کہ بھاگ کر شادی کرنے میں کوئی عزت نہیں۔

نور بخاری نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں کہا کہ الحمداللّہ! دُعا زہرہ بالکل ٹھیک ہے لیکن کاش آپ سمجھ سکتی ہیں کہ آپ کی وجہ سے آپ کے والدین اور پورا پاکستان کتنی اذیت سے گزرا۔

سابقہ اداکارہ نے کہا کہ ہم سب بھی بیٹیوں والے ہیں اور ہم نے آپ کے لیے بہت دُعائیں کی۔اُنہوں نے کہا کہ بچوں کو سمجھنا چاہیے، بھاگ کر شادی کرنے میں کوئی عزت نہیں۔نور بخاری نے یہ بھی کہا کہ مجھے والدین کے لیے بہت افسوس ہے۔

 

علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق دعا زہرہ اور ظہیر نے مقامی عدالت میں ہراسمنٹ پٹیشن بھی دائر کی ہے، یہ پٹیشن سیشن جج حافظ رضوان کی عدالت میں دائر کی گئی۔

دعا زہرہ کا ظہیر سے نکاح 17 اپریل کو ہوا، جبکہ پٹیشن 19 اپریل کو عدالت میں دائر کی گئی۔

کراچی سے دس دن قبل لاپتہ ہونے والی لڑکی دعا زہرا کے معاملے نے ایک نیا رُخ اختیار کر لیا ہے اور اب صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ دعا اور ان کا شوہر ہونے کے دعویدار لڑکا ان کی تحویل میں ہیں۔

اوکاڑہ پولیس کی جانب سے ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے جس میں اس جوڑے کو پولیس اہلکار کے ہمراہ کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔

اوکاڑہ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر فیصل گلزار کے مطابق دعا اور اُن کے مبینہ شوہر اس وقت تھانہ حویلی لکھا پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ڈی پی او کا کہنا تھا دعا زہرا نے اپنے اہلخانہ کے خلاف لاہور میں ہراسانی کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے اور اسی لیے انھیں ابھی کراچی پولیس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

ادھر لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دعا زہرا اور ظہیر کو ڈی پی او آفس اوکاڑہ سے لاہور پولیس کی ٹیم کی حفاظت میں لاہور لایا جا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے کراچی پولیس کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور آئی جی کی ہدایات کے مطابق کراچی پولیس سے تعاون کیا جا رہا ہے۔

ڈی پی او اوکاڑہ فیصل گلزار کے مطابق دعا نے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا ہے۔ اس بیان میں دعا کا موقف ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر آئی تھیں اور انھوں نے ظہیر نامی لڑکے سے کورٹ میرج کی ہے۔

فیصل گلزار کا مزید کہنا ہے کہ تین سال قبل پب جی ویڈیو گیم کے ذریعے دعا زہرا اور ظہیر کی دوستی ہوئی تھی۔

پولیس کی جانب سے ریلیز کی گئی ویڈیو میں دعا بتا رہی ہیں کہ ان کے والدین زبردستی ان کی شادی کسی اور سے کروانا چاہ رہے تھے جس پر وہ راضی نہیں تھیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں گھر میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے بعد وہ اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہیں۔

‘مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا۔ میں اپنے گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی تھی۔ میرے گھر والے میری عمر غلط بتا رہے ہیں۔ میں بالغ ہوں، میری عمر 18 سال ہے۔ میں نے اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے۔ کسی کی کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ خدارا مجھے تنگ نہ کیا جائے، میں اپنے گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں۔’

تاہم دوسری جانب دعا کے والد مہدی کاظمی نے منگل کی صبح ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر 18 برس ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ان کی شادی کو ابھی 18 برس نہیں ہوئے۔

مہدی کاظمی کا کہنا تھا کہ ان کی شادی سات مئی 2005 کو ہوئی تھی اور اس حساب سے دعا کی عمر ہرگز 18 برس نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کا جعلی نکاح نامہ تیار کروایا گیا۔

دعا کے والد نے درخواست کی کہ ان کی بیٹی کو واپس کراچی لایا جائے اور یہاں بیشک انھیں چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رکھا جائے۔ انھوں نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ دعا زہرا کراچی کے علاقے الفلاح سے 16 اپریل کو پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھیں۔

حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…