fbpx

پاکستان میں شرعیت کے منافی کسی قانون کی گنجائش نہیں ہے:مفتی محمد یوسف کشمیری

کراچی:جامعہ الدراسات الاسلامیہ کے مدیر و رکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان مفتی محمد یوسف کشمیری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے۔اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔یہاں شریعت کے منافی کسی قانون کی گنجائش نہیں ہے ۔لیکن بدقسمتی سےدین بیزارطبقہ مغربی ممالک کی پیروی کرتے ہوئےپاکستان میں فحاشی اور بے حیائی پر مبنی قوانین کو لاگو کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔حالیہ ٹرانس جینڈرایکٹ قانون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مفتی محمد یوسف کشمیری کا کہنا تھا کہ جو معاشرے میں ہم جنس پرستی اور فحاشی کو فروغ دینے کا سبب بنے گا۔حکومت کو آئین کے منافی اس قانون کےخاتمے کے لیے فوری اورمؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

ٹرانس جینڈرایکٹ پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے مفتی یوسف کشمیری کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعےہم جنس پرستوں کیلئے راہ ہموار کرنے اور اس کو قانونی شکل دینےکی کوشش کی جا رہی ہے ۔ٹرانس جینڈر قانون آئین و شریعت کے خلاف ہے ۔ اس قانون کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔ پارلیمنٹ ممبران اپنا کردار ادا کر کے اس متنازعہ قانون کو واپس لینے میں کردار ادا کریں۔

مفتی یوسف کشمیری کا مزید کہنا تھا کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کےبھی وہی حقوق ہیں ۔جو ایک مرد یا عورت کے ہیں۔یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے۔ تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا۔انسانیت کے نام پہ دین بیزار طبقہ اپنی فحاشی کی آزادی چاہتا ہے۔ اسے کسی کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں ہے۔