fbpx

جان ہے توجہان ہے:صحت وتندرستی سے تعلیم ممکن:یہ وقت ذاتی مفاد کا نہیں قومی بقاکاہے:صوفیہ مرزا

لاہور:جان ہے توجہان ہے:صحت وتندرستی سے تعلیم ممکن:یہ وقت ذاتی مفاد کا نہیں قومی بقاکاہے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی معروف اداکارہ اورقومی ہم آہنگی اورملک وملت سے جان سے زیادہ محبت رکھنے والی پاکستان شوبز کی دنیا کا بڑا نام جنہیں دنیا صوفیہ مرزا کے نام سے یاد کرتے ہیں ، انہوں نے اس موقع پرجب دنیا کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں اس دوران قومی ہم آہنگی اورحکمت ودانائی کے حوالے سے اہم پیغام پاکستانیوں کے نام کیا ہے

معروف اداکارہ صوفیہ مرزا نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں جب کہ قوم ایک بہت ہی خطرناک وبائی مرض سے نبرد آزما ہے پوری قوم کو مل کراس وبا کے خلاف احتیاطی تدابیراختیارکرنی چاہیں

صوفیہ مرزا نے معروف اداکارہ صاحبہ افضل کی طرف سے ایک ویڈیو پیغام کے بارے میں بڑی خوبصورت بات کی ، صاحبہ افضل نے اپنے انسٹا گرام کے ذریعے ایک درد بھری آواز کے ساتھ قوم کوجھجھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی تکلیف دہ بات اورکیفیت ہے کہ ایک طرف جہاں میرے ، آپ کے عزیز اس کرونا وبا سے دنیا فانی سے کوچ کررہےہیں قوم صدمے میں مبتلا ہے اس دوران دوسری طرف بے حسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کوبس اپنی فیسوں کی پڑی ہے

صوفیہ مرزا کہتی ہیں کہ صاحبہ کی کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمیں اس وقت ذاتی مفاد کی بجائے قومی مفادات کوترجیح دینے چاہیے ، اگرزندگی رہی توپھرتعلیم بھی حاصل ہوجائے گی ، صحت وتندرستی سے ہی انسان بہترانداز سے تعلیم حاصل کرسکتا ہے،

صوفیہ مرزا نے باغی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگراس نازک موقع پراجتماعیت نہیں اپنائیں گے توپھریہ تعلیمی ادارے یہ معاشرے یہ یہ خوشیاں اوریہ معاملات شاید دوبارہ اس حالت میں ہمیں نہ مل سکیں

صوفیہ مرزا نے بڑی بات کرتےہوئے کہا کہ یہ تعلیمی ادارے ہمارے ہیں ، ان میں پڑھانے والے اساتذہ ہمارے ہیں ، ان میٰں پڑھنے والے بچے ہمارے ہیں ہمیں‌ ان سب کی جان عزیز ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ماہرین طب ، اپنی حکومت سے اوران تمام افراد اوراداروں سے تعاون کرنا چاہیے جواپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیرہماری جان بچانے کی فکرمیں‌ہیں‌

صوفیہ مرزا نے کہا کہ یہ وقت حکمت ودانائی ، قومی ہم آہنگی اورانسانیت کی بقا کےلیےمل کرآگے بڑھنے کا ہے ، انہوں نے کہا وہ امید کرتی ہیں‌ کہ پوری قوم اللہ کی رحمت سے احتیاطی تدابیراختیارکرتے ہوئے اس بحران سے نکل جائیں گے پھریہ قوم اوراس قوم کے نونہال حسب سابق اپنی تعلیمی اورمعاشی سرگرمیاں برقراررکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.