اسے کہتے ہیں عزم وہمت ، ہزاروں جوڑوں نے اجتماعی شادی کرکے کورونا کے خوف کو شکست دے دی

0
53

جنوبی کوریا:اسے کہتے ہیں عزم وہمت ، ہزاروں جوڑوں نے اجتماعی شادی کرکے کورونا کے خوف کو شکست دے دی۔اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا میں اب تک چین کے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 24 ہوگئی ہے جبکہ پوری دنیا میں تقریباً 30 ہزار افراد میں پُراثرار کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے—

جنوبی کوریا میں اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی گئی جس میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے شرکت کرکے کورونا وائرس کے خوف کو شکست دے دی۔

جنوبی کوریا میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اس شادی میں ہزاروں جوڑوں نے شرکت کی جن میں سے اکثر نے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے چہرے پر ماسک پہن رکھے تھے۔

کوریا کے مشہور مذہبی لیڈر سن ینگ مون کی جانب سے قائم کیے گئے گرجا گھر میں 30 ہزار لوگوں نے کورونا وائرس کے پیشِ نظر فیس ماسک پہن کر شادی میں شرکت کی مگر ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے ماسک پہنے بنا شادی میں شرکت کی۔

چوئی جی ینگ جو کہ 2 مہینے پہلے ہی چرچ کے ذریعے اپنے شوہر سے ملیں تھیں اس چرچ میں شادی کرنے کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ میں بہت خوش ہوں کی آج میری شادی ہوگئی ہے۔

اسی طرح ایک 21 سالہ یونیورسٹی طالبہ نے شادی کرنے کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کے مجھے اس وائرس کا کوئی خوف نہیں تو یہ یقیناً جھوٹ ہوگا۔ لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ آج میں اس وائرس سے محفوظ ہوگئی ہوں۔

کوریا کے مشہور مذہبی لیڈر سن ینگ مون کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر چرچ میں اجتماعی شادی کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 64 ممالک سے 6 ہزار جوڑے شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں اب تک چین کے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 24 ہوگئی ہے جبکہ پوری دنیا میں تقریباً 30 ہزار افراد میں پُراثرار کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سب سے بڑی تعداد چین کے شہر ووہان کے شہریوں کی ہے۔

اس چرچ کے ماننے والے وہ افراد جو چین میں مقیم ہیں انہیں تقریب میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔

Leave a reply