fbpx

جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

جرمن چانسلر نے روسی مؤقف کو پاگل پن کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی اگرپاگل پن نہ کہیں تو کیا کہیں‌،ادھراطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ یوکرینی جنگ کے حوالے سے روسی مؤقف میں کوئی لچک دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ادھر روس نے خبردار کر دیا ہے کہ اگر نیٹو روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار نصب کرے گا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز نے یوکرین جنگ کو’پاگل پن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ ماہ گزرنے کے بعد بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔

جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو فورسز پیچھے نہیں ہٹی ہیں بلکہ مشرقی سرحدوں پر واقع اتحادی ممالک میں اس کی توجہ زیادہ ہو گئی ہے۔ ان کے بقول یوکرین جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد میں ایک نئی توانائی آئی ہے۔

اپنے تازہ انٹرویو میں شولس کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین جنگ میں روسی افواج کو ہونے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سوویت یونین اور افغانستان کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ میں اسے اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا روس کو ان گیارہ مہینوں میں ہو چکا ہے۔

دوسری جانب، مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے خارجہ برلن میں ایک ملاقات کر رہے ہیں، جس میں وہ یوکرین جنگ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اختتام ہفتہ پر ہونے والی ملاقات میں اس جنگ کی حکمت عملی کے علاوہ فن لینڈ اور سویڈن کے اس عسکری اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔

تاہم روس نے بالخصوص ہمسایہ ملک فن لینڈ کے اس اتحاد کا ممبر بننے کی خواہش پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

روس نے خبردار کیا ہے کہ روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار لانے کے نتیجے میں ماسکو حکومت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرے گی۔ روسی نائب وزیر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سویڈن اور فن لینڈ کے خلاف روس کا کوئی مخالفانہ رویہ نہیں ہے اور یوں اس میں کوئی منطق نظر نہیں آتا کہ یہ ممالک نیٹو کی رکنیت اختیار کریں۔

یاد رہے، روس کا کہنا ہے کہ اس کی سرحدوں کے قریب نیٹو فورسز کی تعیناتی اس کی قومی سلامتی کے منافی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یورپ کی مشرقی سرحدوں کی طرف نیٹو کی توسیع برداشت نہیں کی جائے گی۔