fbpx

بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی پریس کانفرنس کریں گے

اسلام آباد :29 سال سے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی آج اہم پریس کانفرنس کریں گے،اطلاعات کے مطابق آج کا دن اسلام آباد میں کشمیری قیادت کوبھارت کی طرف سے لاحق خطرات سے آگاہی اورعالمی دنیا کو نوٹس لینے کے حوالے سے اہم قراردیا جارہا ہے ،

ادھر ذرائع کے مطابق آج اسی سلسلے میں ڈاکٹر مجاہد گیلانی آپا آسیہ اندرابی کے بھانجے صدر کشمیر یوتھ الائنس گزشتہ 29 سال سے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے نیشنل پریس کلب آئی ایس بی میں اہم پریس کانفرنس کریں گے۔

اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ میڈیا کو پیغام جاری کردیا گیا ہے کہ وہ آج اس اہم پریس کانفرنس کی کوریج کرے اورعالمی برادری تک کشمیریوں کی آواز کو پہنچانے کا سبب بنے اس لیے تمام میڈیا کو آج کی اہم پریس کانفرنس سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے

 

ڈاکٹر قاسم فکتو
حریت رہنما ڈاکٹر محمد قاسم فکتو 1967میں پیدا ہوئے، آپ کا حقیقی نام عاشق حسین فکتو تھا، تاہم اپنے قلمی نام قاسم فکتو سے ہی مقبول ہوئے اور جانے جاتے ہیں، آپ ابھی 17برس کے ہی ہوئے تھے کہ آپ نے مقبوضہ جموں کشمیر میں مزاحمتی تحریکوں میں عملی شرکت شروع کردی، آپ نے نوجوانی میں ہی اس حقیقت کو تسلیم کرلیا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلاء، حق خودارادیت اور آزادی کے بغیر مسلمانان کشمیر یہاں چین سے زندگی بسر نہیں کرسکتے،1987میں ہی آپ مزاحمتی تحریک کے سرگرم کارکن، فریڈم فائٹر اور نوجوان سکالر کے طور پر ابھرے،

1990میں آپ کا سیدہ آسیہ اندرابی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، آسیہ اندرابی بھی اس وقت خواتین میں اپنے جذبہ حریت کی وجہ سے یکساں مقبول تھیں، بدقسمتی سے سید ہ آسیہ اندرابی کے ساتھ آپ کا ازدواجی سفر محض تین سال تک رہا اس کے بعد روحیں تو ایک رہیں مگر جسم جدا ہوگئے، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو قابض انتظامیہ کے کالے قانون کے تحت آزادی کیلئے جدوجہد کی پاداش میں فروری1993میں پابند سلاسل کردیا گیا۔ اس دوران آپ کے دو بیٹوں کی ولادت ہوئی جن کے نام محمد اور احمد رکھے گئے۔ آپ سے آزادی کی جستجو، پاکستان سے محبت اور حصول تعلیم کا جذبہ جیل کی سلاخیں بھی نہ چھین سکیں، آپ نے جیل کے اندر سے ہی ڈاکٹریٹ مکمل کی اور جوانی کے ایام سے ہی شعبہ تصنیف کے ساتھ بھی منسلک ہوگئے، آپ نہ صرف مسلمانان کشمیر کے سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئے بلکہ ایک مذہبی سکالر بھی بنے،

قید کے بعد آپ کو محض 1999میں ایک بار جیل سے ضمانت پر رہائی ملی جو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک نہ چل سکی اور آپ کے عظیم ارادوں کو دیکھتے ہوئے قابض انتظامیہ نے انہیں پھر پابند سلاسل کردیا، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے 29 سال ہونے کو ہیں، اس عرصے کے دوران انہوں نے19کتابیں تصنیف کیں جن میں سے ایک کتاب مقبوضہ جموں کشمیر کی تحریک اور بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرتی ہے جسے ”بانگ“ کا عنوان دیا گیا۔ بھارت کے مذموم ہتھکنڈے آپ کے جذبہ آزادی کی آگ کو بجھا نہ سکے تو کٹھ پتلی عدالتوں نے آپ کے مخصوص کیس میں آپ کو ”تاحیات قید“ کی سزا سنادی جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔دوران قید قابض انتظامیہ اور انسانیت دشمن فورسز کا آپ پر ہرجبر جاری ہے، ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ حال ہی میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ آپ کو جس بلاک میں رکھا گیا ہے وہاں سے دوسرے قیدیوں کو نکال لیا گیا ہے اور آپ کو تنہا کردیا گیا ہے، و

اضح رہے کہ آپ جیل کے جس بلاک میں قید ہیں وہیں پر شہید اشرف صحرائی قید تھے جنہیں بھارت نے کووڈ کا بہانہ بناکر قتل کردیا۔ اب جیل کے اس بلاک میں ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو بھی تنہا کرنے کے پیچھے بھارت کے مذموم مقاصد یا چال نظر آتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، دفتر خارجہ پاکستان اور ریاست پاکستان اس حوالے سے بھرپور آواز اٹھائیں، تاکہ اس عظیم حریت رہنما کی زندگی کو بھارتی درندوں سے محفوظ کیا جاسکے۔ انسانی حقوق کے علمبردار 29سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے والے ایشیا کے سب سے طویل مدت تک رہنے والے قیدی کی رہائی کیلئے عملی اقدامات کریں۔