ورلڈ ہیڈر ایڈ

قصور پھر ہوا لہولہان ، اغوا ہونے والے 5 میں سے 3 بچوں‌ کی لاشیں برآمد ، اگر عمران قاتل تھا تو اب کس نے قتل کیے؟

قصور :ضلع قصور پنجاب ، پاکستان نہیں‌بلکہ دنیا بھر میں ایک مشہور خطے کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں یہ شہر علم، ثقافت اور تاریخی حوالے سے بہت مشہور ہے وہاں اس شہر پر نحوست کے ایسے سائے امڈ ائے کہ چھٹنے کا نام ہی نہیں‌لے رہے ، قصور میں ظلم وبربریت کے پھر ایسے اندوہناک کھیل پھر کھیلے جارہے ہیں‌کہ یہ بھی ایک تاریخ کا حصہ بن کررہ گئے ہیں، ایک مرتبہ پھر بچوں کے لیے غیر محفوظ ہوگیا اور ویڈیو اسکینڈل اور زینب قتل کیس کے بعد ایک بار پھر بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران اغوا کیے گئے تین بچوں تین بچوں کی چونیاں کے علاقے سے برآمد ہوئیں۔قتل کیے گئے دو بچوں کی باقیات اور ایک بچے کی لاش چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے سے ملیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بچوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔

مقامی افراد کے مطابق گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران پانچ بچے لاپتہ ہوئے ہیں جن میں سے تین کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ دو بچے اب بھی لاپتہ ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ عرصے میں تین بچے لاپتہ ہوئے۔

تفصیلات کے مُطابق چونیاں شہر کے مختلف مقامات سے گزشتہ تین ماہ میں چار بچے اغوا ہوئے جنکی تلاش کیلئے مختلف ذرائع استعمال کئے گئے تاحال تھانہ سٹی چونیاں پولیس بلکل ناکام رہی شہر کے مختلف مقامات سے اغواء ہونے والے 3 بچوں کی لاشیں چونیاں انڈسٹریل زون کے قریب واقع کھنڈرات سے برآمد ہوئیں تینوں بچوں کو کپڑے اتار کر زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کیا گیا.

ڈی پی او قصور کے مطابق اغواء ہونے والے چار بچوں میں سے ایک نعش اور دو بچوں کی کھوپڑیاں ملی ہیں اغواء اور قتل ہونے والے بچوں میں فیضان، علی حسنین اور سلمان شامل ہیں عمران تاحال لاپتہ ہے پولیس کی بھاری نفری اور کرائم سین ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر نعش اور دو بچوں کے جسم کی باقیات کا جائزہ لیا چونیاں شہر میں معصوم بچوں کے ساتھ بد فعلی کے بعد بے دردی سے قتل ہونے والے بچوں کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کی وجہ سے پورے شہر سمیت ضلع قصور کی عوام خون کے آنسو رو رہے ہیں ہر طرف کہرام مچا ہوا ہے ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ہے

ڈی پی او قصور عبدالغفار قیصرانی نے کہا کہ واقعے کی تفتیش کے لیے تین سے چار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ موبائل لیب آ گئی ہے جو تمام ثبوت اکٹھے کر رہی ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ ہم ایک سے دو دن کے اندر ہم ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ڈی پی او قصور نے بتایا کہ جس دن بچے غائب ہوئے تھے اسی دن ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی اور واقعے کی تفتیش جاری تھی اور آج ان کی لاشیں ایک سنسان جگہ سے ملی ہیں۔

قصور کی رہائشی 6 سالہ زینب 4 جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی تھی اور 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ان کی لاش ملی جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسری طرف لوگ پوچھتےہیں کہ اگر آج زینب کا اصل قاتل عمران تھا اور اسے اس جرم میں‌ پھانسی دے دی گئی ، مگر اب کون ہے، عوام الناس کا کہنا ہے کہ اصل میں‌ پچھلی حکومت نے کریڈٹ لینے کی خاطر جلد بازی کرتے ہوئے عمران کو تو پھانسی دے دی مگر وہ کردار اور لمبے ہاتھ جو عمران سے یہ کام لیتے تھے ان کو بچا لیا گیا یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ ابھی تک درندگی کرنے میں ہچکچاہت محسوس نہیں کرتے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.