fbpx

چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

بیجنگ: چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

باغی ٹی وی :یہ خلا میں انسانوں کے قیام اور مختلف معاملات کی کھوج کے چین کے بلند عزائم کا ایک اہم سنگ میل ہے’تیانہے‘ نامی اس موڈیول میں 3 افراد کی رہائش کے لیے کوارٹر موجود ہیں اور اسے 28 اپریل کو لانگ مارچ 5 بی راکٹ سے لانچ کیا گیا۔

یہ خلائی اسٹیشن 2022 تک مکمل فعال ہونے کی توقع ہے اور اس سے قبل 10 مشنز کے ذریعے زمین کے مدار میں اسپیس اسٹیشن کے مزید حصے بھیج کر اسمبل کیے جائیں گے۔

تاہم 28 اپریل کو لانچ کے بعد خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کو کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 29 اپریل کی رات 11 بجکر 11 منٹ پر چین کی وین چھانگ اسپیس لانچ سائٹ سے چینی خلائی اسٹیشن کا مرکزی ماڈیول کامیابی سے لانچ کیا گیا جسے چین کی جانب سے خلائی مشن کے نئے دور میں کامیابی کا اعلان قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اب تک زمین کے گرد مدار میں کئی چھوٹی موٹی تجربہ گاہیں بھیجی جاچکی ہیں لیکن صحیح معنوں بڑے خلائی اسٹیشنوں کی تعداد صرف 2 رہی ہے: سابق سوویت یونین کا ’میر‘ اور امریکی قیادت میں ’بین الاقوامی خلائی اسٹیشن‘ (آئی ایس ایس)۔ اس طرح چین وہ تیسرا ملک ہوگا جو تنِ تنہا ایک بڑا خلائی اسٹیشن زمین کے گرد مدار میں پہنچائے گا۔

چینی خلائی اسٹیشن کے مرکزی ماڈیول کا نام ’تیانہے‘ رکھا گیا ہے جس کی مجموعی لمبائی 16.6 میٹر، قطر 4.2 میٹر اور ٹیک آف کے وقت وزن 22.5 ٹن ہے۔

یہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن کے انتظام اور کنٹرول کا مرکزی حصہ ہے جس میں تین خلانورد سائنسی تحقیق کےلیے طویل عرصے تک قیام کرسکیں گے۔

’تیانہے‘ کے خلاء میں پہنچ جانے کے بعد خلائی اسٹیشن کےلیے نئی ٹیکنالوجیز، مثلاً روبوٹ بازو، کی جانچ پڑتال اور توثیق کی جائے گی اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو آئندہ ماہ چینی خلانورد اس ماڈیول تک بھیجے جائیں گے جو اس کے باہر کئی طرح کی اہم سرگرمیاں انجام دیں گے۔

چینی خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی منصوبے کے مطابق 2021 سے 2022 کے دوران 11 خلائی پروازوں کے ذریعے ’تیانگونگ 3‘ کے دیگر ماڈیولز، ضروری ساز و سامان اور عملہ وغیرہ بھیجے جائیں گے۔

2022 تک مدار میں اپنی تکمیل مکمل کرنے کے بعد، چین کا یہ خلائی اسٹیشن مسلسل پندرہ سال تک مقررہ مدار میں رہتے ہوئے کام کرسکےگا۔

امریکی جریدے ’سائنٹفک امریکن‘ کے مطابق ’تیانگونگ 3‘ میں سائنسی تجربات کےلیے اندرونی طور پر 14 الماریاں نصب کی جائیں گی جبکہ بیرونی حصے میں 50 ایسے مقامات (ایکسٹرنل ڈاکنگ پوائنٹس) مخصوص ہوں گے جہاں خلائی تحقیق سے متعلق آلات منسلک کیے جاسکیں گے۔

خلائی تحقیق کے چینی ادارے نے ’تیانگونگ 3‘ میں انجام دینے کےلیے تقریباً 100 تجربات ابھی سے منتخب کرلیے ہیں جن میں 9 بین الاقوامی خلائی تحقیقی تجربات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی جانب سے خلائی کھوج کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ٹیکنالوجی پیشرفت بھی کی جارہی ہےچین کے خلائی پروگرام نے حال ہی میں چاند کی سطح کے نمونے واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ آئندہ ماہ مریخ پر اس کا مشن لینڈ ہونے کی توقع ہے۔

خلائی اسٹیشن کے موڈیول کو بھیجنے کے مشن کو روانہ ہوتے ہوئے بیجنگ میں چینی وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ قیادت نے لائیو دیکھاچین کا یہ اسپیس اسٹیشن مکمل ہونے پر زمین کے زیریں مدار میں 15 سال تک موجود رہے گا۔

کم از کم 12 خلابازوں کی جانب سے پرواز اور اسٹیشن میں رہنے کی تربیت حاصل کی جارہی ہے جبکہ چین کا پہلا انسان بردار مشن جون میں بھیجے جانے کا امکان ہے2022 کے آخر تک مکمل ہونے پر ٹی شکل کے اس اسپیس اسٹیشن کا وزن 66 ٹن ہوگا جو کہ موجودہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے چھوٹا ہےچین کی جانب سے اپنے اسپیس اسٹیشن کو آئی ایس ایس کی طرح استعمال کرنے کا منصوبہ تو نہیں مگر چینی حکام کا کہنا ہے کہ گیرملکی شراکت داری کی راہ کھلی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.