fbpx

ٹک ٹاک صارفین کے لئے کون سا نیا فیچر لارہا ہے؟

چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے اپنے صارفین کے لئے نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے-

باغی ٹی وی :اکثر ٹک ٹاک پر کھانے پکانے کی کوئی ویڈیو دیکھتے ہوئے اس وقت کافی جھنجھلاہٹ ہوتی ہے جب ترکیب کو لکھنا پڑتا ہے یا کریٹیر کے بائیو لنک پر جاکر اسے دیکھنا پڑتا ہے تاہم اب ٹک تاک انتظامیہ نے ایک نئے فیچر کو متعارف کراکے اس مسئلے کو حل کردیا۔

ٹک ٹاک نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے کہ کہ ہم اس فیچر کے لئے بہت پُرجوش ہیں جو صارفین کو اپنی ویڈیو میں منی ایپس ایمبیڈ کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

اس فیچر کو جمپس کا نام دیا گیا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی صارف کھانا پکانے کی ویڈیو بناتا ہے تو وہ ریسیپی ایپ ویشک کے لنک کو اس میں ایمبیڈ کرسکتا ہے، جس سے ناظرین ایک بٹن کلک کرکے اس ترکیب کو ٹک ٹاک کے اندر ہی دیکھ سکیں گے۔

امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

یہ فیچر اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور مخصوص ٹک ٹاکرز کو ہی دستیاب ہے، مگر ٹک ٹاک کہنا ہے کہ اس فیچر کو مزید افراد کو ٹیسٹنگ کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

جب جمپ فیچر سے لیس کسی ویڈیو کو دیکھا جائے گا تو ناظرین کو اسکرین کے نیچے ایک بٹن نظر آئے گا جو ٹک ٹاک کے اندر ایک نئی اسکرین میں مواد کو اوپن کرے گا اس کی ایک جھلک ٹک ٹاک کی جانب سے ایک ویڈیو میں بھی جاری کی گئی کہ اسے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ٹک ٹاک کے مطابق اس وقت ویشک، وکی پیڈیا اور ٹیبیلوگ کو اس فیچر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ جلد بزفیڈ اور دیگر کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

ویشک کے سربراہ نک ہولزہر نے کہا ، "ہم ٹک ٹاک جمپ میں ایک نمایاں شراکت دار بن کر خوش ہیں ،” رواں سال کے شروع میں ایک محدود بیٹا شروع کرنے کے بعد سے ، ٹِک ٹاک اور ویشک نے ایک طویل عرصے سے دشواری کے خاتمے میں مدد کی ہے جو صارفین کو درپیش ہے کہ کیسے ٹک ٹا ک کے صارفین کو مکمل نسخہ والا مواد دیکھنے اور وقت بچانے کی اجازت دیں۔ اس سے قبل آن لائن شائع شدہ ترکیبیں شامل کرنے کے لئے نہ صرف ٹِک ٹاک کے تخلیق کارویشک استعمال کررہے ہیں بلکہ وہ ٹک ٹاک ک کی انوکھی ترکیبیں بھی شیئر کر رہے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ ٹک ٹاک پہلی کمپنی نہیں جو اس طرح کے فیچر کو ویڈیوز میں استعمال کررہی ہے، اسنیپ چیٹ میں بھی اس سے ملتا جلتا فیچر منیز کے نام سے موجود ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے پشاور ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن ٹک ٹاک سے 98 لاکھ غیراخلاقی ویڈیوز ہٹادی گئی ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہونے والے مواد سے متعلق درخواست پر سماعت کی تھی سماعت کے دوران پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور وکیل جہانزیب محسود عدالت میں پیش ہوئے تھے-

دورانِ سماعت ڈائریکٹر ٹیکنیکل پی ٹی اے نے بتایا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد اب تک ٹک ٹاک سے 98 لاکھ غیر اخلاقی ویڈیوز کو ہٹادیا گیا ہے جبکہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اب تک غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرنے والے 7 لاکھ 20 ہزار ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بلاک کردیا گیا ہے اور پاکستان کے لیے ٹک ٹاک کانٹینٹ ماڈریٹر کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔

موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں…

علاوہ ازیں پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود ایڈووکیٹ نے بتایا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد ٹک ٹاک نے پہلی مرتبہ پاکستان کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا ہے پی ٹی اے نے غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہونے سے پہلے سنسر کرنے کے لیے مختلف ممالک سے رابطے کیے لیکن ٹک ٹاک ویڈیو سنسر کرنے کے لیے کوئی ڈیوائس موجود نہیں ہے۔

اس پر چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو کام آپ کررہے ہیں اس کو جاری رکھیں، ہم نہیں چاہتے کہ تفریح کے لیے ٹک ٹاک کو بند کیا جائے جو غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ ہوتا ہے اس کے ہمارے معاشرے پر برے اثرات پڑتے ہیں ہمیں صرف اس کی فکر ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جو غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، اس کو فلٹر کیا جائےبعدازاں عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کردی۔

پی ٹی اے کی ‘ٹوئٹر’ کو اعلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کی…