fbpx

خلیج بنگال میں بننے والے طوفان "گلاب” سے پاکستان کو خطرہ نہیں محکمہ موسمیات

محکمۂ موسمیات نے خلیجِ بنگال میں بننے والے ٹراپیکل سائیکلون کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے کسی ساحلی علاقے کو اس طوفان سے خطرہ نہیں۔

باغی ٹی وی : محکمۂ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وسطی خلیجِ بنگال میں ہوا کا شدید کم دباؤ ڈیپ ڈپریشن میں تبدیل ہو رہا ہے، یہ ڈیپ ڈپریشن کراچی سے 2 ہزار 425 کلو میٹر دور ہے آج شام تک سائیکلونک طوفان بن سکتا ہے، سائیکلون کا رخ مغرب میں بھارت کی جانب ہے پاکستان کے کسی ساحلی علاقے کو اس طوفان سے خطرہ نہیں ہے۔

دوسری جانب بھارتی محکمۂ موسمیات نے سائیکلون الرٹ جاری کر دیا ہے، یہ الرٹ شمالی آندھرا پردیش اور اڑیسہ کے جنوبی ساحل کے لیے جاری کیا گیا ہے، طوفان بننے کی صورت میں اسے ’گلاب‘ کا نام دیا جائے گا جس سے کراچی میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بھارتی ماہرِ موسمیات مہیش پلاوات کے مطابق خلیجِ بنگال میں بننے والا سائیکلونک طوفان اپنی نوعیت کی نایاب موسمیاتی سرگرمی ہے، مون سون میں بحیرۂ عرب یا خلیجِ بنگال میں سائیکلون نہیں بنا کرتے۔

انہوں نے بتایا کہ خلیجِ بنگال میں موجود ڈیپ ڈپریشن شدت اختیار کر گیا ہے جو سائیکلونک اسٹارم کی صورت اختیار کر گیا ہے، عام طور ستمبر میں بحیرۂ عرب اور خلیجِ بنگال میں سائیکلون نہیں بنتے، اکتوبر اور نومبر میں سائیکلون بنتے ہیں۔

بھارتی ماہرِ موسمیات نے بتایا کہ دوپہر تک یہ سائیکلون بن سکتا ہے، لیکن زیادہ شدت اختیار نہیں کرے گا یہ طوفان وسطی بھارت اور گجرات پار کرنے کے بعد جنوب پاکستان اور کراچی میں بارشوں کا باعث بن سکتا ہے۔

بھارتی ماہرِ موسمیات مہیش پلاوات کا یہ بھی کہنا ہے کہ سائیکلون بننے کی صورت میں اس کا نام ’گلاب‘ رکھا جائے گا واضح رہے کہ اس طوفان کا نام ’گلاب‘ پاکستان کا تجویز کردہ ہے۔