fbpx

تمباکو نوشی سے بچوں کو کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ مظفر آباد میں کانفرنس

مظفر آباد میں کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ ہر سال تمباکو نوشی سے ایک لاکھ ستر ہزار اموات ہوتی ہیں-

باغی ٹی وی : مظفر آباد میں کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس ہوئی جس میں اسلام آباد لاہور سے صحافیوں نے شرکت کی کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہر پانچ بچوں کے ساتھ ایک فی میل بھی سموکنگ کرتی تھی اب چار کے ساتھ دو فی میل سموکنگ کرتی ہیں پاکستان میں فی میل سموکنگ بڑھتی جا رہی ہے۔ ہماری قوم کو خراب کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس میں بتایا گیا کہ83 ارب سگریٹ بنائے جاتے ہیں اور وہ ہر سال پھونک دیئے جاتے ہیں پاکستان کو سگریٹ بنانے کی اجازت ہے کہ انڈسٹری ہمیں کیا فائدہ دے رہی ہے اکانومی پر کیا اثر ہے کیا اس سے نوکری مل رہی ہے حکومت ٹیکس کیوں نہیں لگاتی سگریٹ نوشی ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہی ہے ایک لاکھ ستر ہزار اموات ہر سال تمباکو سے ہوتی ہیں اور اسکا متبادل نوجوان سگریٹ نوشی کر دیتے ہیں بچوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ہمیں بچوں کو بچانا ہے-

سگریٹ کے پیکٹس کھولنے والے کے پاس پڑے ہوتے اور سامنے رکھے جاتے بچوں کو دکھانے کے لئے ٹافیوں کے ساتھ سگریٹ رکھے جاتے ہیں اس ضمن میں ان کو پیسے ملتے ہیں تیرہ چودہ سال کا بچہ سگریٹ پینا شروع کر دے تو پھر اس نے ساری زندگی پینا ہے۔

ایک سروے کے مطابق 64 فیصد ایسا تھا کہ ٹافیوں کے ساتھ سگریٹ رکھے گئے تھے 27 فیصد کو ڈسکاؤنٹ دیا جا رہا تھا ہمیں سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی ضرورت ہے نوکری کے بہانے بلایا جاتا ہے لیکن نوکری نہیں دی جاتی ۔صرف مارکیٹنگ کی جاتی ہے کھوکھوں کے اندر پوسٹر قانون کی خلاف ورزی ہے لیکن لگے ہوتے ہیں بچوں کی زندگی تباہ کرنے کے لیے ۔

2015 میں اس وقت کی ہیلتھ منسٹر نے کہا تھا کہ سگریٹ کی پیکٹ کے اوپر تصویر کو 85 فیصد تک لے کر جا رہے ہیں لیکن پھر دباؤ ڈال کا اس کام کو روکا گیا-

پاکستان میں ڈبی پر وارننگ سب سے کم ہے اس خطے میں تمباکو ہماری صحت کو تباہ کر رہا ہے ایک لاکھ ستر ہزار اموات حکومت کی جاری شدہ ہیں ۔ پانچ لاکھ لوگ ہر روز تمباکو نوشی کی وجہ سے ہسپتال جاتے ہیں ۔

ڈبلیو ایچ او کا ایک سروے کہتا ہے کہ سیلری کا اچھا خاصا اماونٹ سگریٹ پر لگا دیا جاتا یے۔ جب سگریٹ کی وجہ سے کوئی بیمار ہوتا ہے تو اسکی دہاڑی ختم ہسپتال کا الگ خرچہ۔ پھر مزید غربت میں چلا جاتا ہے۔

آمدنی کا دس فیصد سگریٹ پر لگا دیا جاتا ہے اس سے تین ہزار میں بچوں کو اچھی خوراک. ایجوکیشن دی جا سکتی ہے کیا سگریٹ واقعی ایسی چیز ہے کہ اسکو واقعی نہیں چھوڑا جا سکتا یہ سوچنے والی بات ہے ہر بندہ جو سگریٹ پیتا ہے وہ ایف ای ڈی دیتا ہے-

پھر کمپنی وہ جمع کر کے حکومت کو دیتی ہے لیکن ٹیکس نہیں دیتے اپنا پیسہ باہر لے جا رہے ہیں لیکن تباہی یہاں کر رہے ہیں ۔ ان کے ہاں کام کرنے والے ایک فیصد سے بھی کم ہیں ورک فورس کا اس میں فارنر ان کی فیملی بھی شامل ہیں نقصان 615 ارب کا ہر سال اکانومی کا کرتے ہیں پاکستان کا 37 ارب کی پروڈکٹ ڈکلیر ہی نہیں کرتے اور ملک کو تباہ کر رہے ہیں –

ٹوبیکو پر ٹیکس بڑھانے کا کہا گیا لیکن پریشر آیا اور ٹیکس نہیں لگایا گیا۔کس کس کی جیب موٹی ہو رہی ہے بہت سے ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جن کی بیس پچیس لاکھ تنخواہیں ہیں ٹوبیکو انڈسٹری میں اور وہی لوگ ٹیکس نہ لگنے کے ذمہ دار ہیں اس کو سستا کیوں رکھا جا رہا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے ۔

وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں لیکن اس کے ارد گرد لوگ اسکو صحیح نہیں بتارہے وزیراعظم تک آواز پہنچانی ہے اور انکو حقیقت بتانی ہے۔ 1200 پاکستانی بچے ہر روز سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں ان کو بچانا ہے آج سے کام شروع کریں گے تو آنیوالے دس پندرہ سالوں میں تمباکو نوشی ختم ہو سکتی ہے تمباکو نوش کھانے کے بعد سگریٹ پیے گا اسکو نہیں روک سکتے لیکن نئے بچوں کو روکنا ہے-