fbpx

تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا

پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں دریائے سندھ پر واقع تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا۔انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج نے بتایا ہے کہ سکھر بیراج پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15 ہزار کیوسک پانی میں کمی ہوئی ہے، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح مزید کم ہو گی۔انہوں نے بتایا ہے کہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں 5 لاکھ 44 ہزار 650 کیوسک ریکارڈ ہوئے ہیں۔انچارج کنٹرول روم کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب کی صورتِ حال کے پیش نظر تمام نہریں بند ہیں۔

دوسری جانب منچھر جھیل پر صورتِ حال مزید خراب ہو گئی جس کے بعد علاقہ مکینوں کو جھیل پر نہ جانے اور قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اس وقت منچھر جھیل پر خطرے کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ منچھر جھیل کو باغِ یوسف کے مقام پر، آر ڈی 14 پر کٹ لگایا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں۔علاقہ مکینوں کو جھیل کے قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

قبل ازیں ڈپٹی کمشنر فرید الدین کا کہنا ہے کہ اس وقت منچھر جھیل پر خطرے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔انہوں نے کہا کہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں، منچھر جھیل کو کٹ نہیں لگائیں گے، آخری وقت تک کوشش کریں گے۔

منچھر جھیل میں طغیانی کے باعث بند پر پناہ لینے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا، طغیانی کی وجہ سے علاقے میں سانپ نکل آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بند آر ڈی 62 پر شہری محمد قاسم ملاح کو سانپ نے کاٹ لیا، متاثرہ شخص کو علاج کے لیے 18 کلو میٹر دور سیہون لے جایا گیا۔

دوسری جانب ریسکیو ذرائع نے بتایا ہے کہ دادو میں سیلاب زدہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے باعث بندوں میں پانی کی لہریں اٹھنے لگیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جوہی اور میہڑ کے رنگ بندوں پر پانی کی لہروں نے دباؤ بڑھا دیا ہے، جہاں پر بڑی تعداد میں شہری بھی پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب ضلع دادو میں میہڑ اور جوہی شہر کے رنگ بندوں پربھی پانی کا دباؤ ہے، شہری بوریوں میں مٹی بھر کر بندوں کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔مٹیاری کے قریب روہڑی کینال کے مقام چھنڈن شاخ کا ٹوٹنےوالاگیٹ کئی گھنٹےبعدبھی نہ بن سکا، مٹیاری شہرسمیت قومی شاہراہ زیرآب آنےکا خدشہ ہے۔