fbpx

ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب
ایوان بالا قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا.

کمیٹی نے مالی سال 2022-23 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) سے تحت سالانہ بجٹ کا جائزہ لیا۔ اے این ایف کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت چار منصوبہ جات کے لیے وزارت خزانہ سے فنڈز کی درخواست کی گئی تھی مگر فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے صرف ایک منصوبے پر اکتفاء کرنا پڑ رہا ہے۔ اے این ایف حکام نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے علاقے ہمک میں ایک بحالی مرکز پر کام جاری ہے جو آئندہ سال مکمل کر لیا جائےگا.
وزیر برائے انسداد منشیات شاہ زین بگٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ بحالی مراکز کی تعمیر کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی ملاقات کر چکا ہوں اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بحالی مراکز کے لیے سندھ کے اضلاع میں زمین اور سرکاری عمارتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے.

خیبرپختونخوا میں انسداد منشیات کے علیحدہ قانون کے معاملے پر وزارت انسداد منشیات نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملہ صوبائی حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے لیکن معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے. چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو انکے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے.عدالتوں میں زیر التوا منشیات کے ہائی پروفائل کیسز کے بارے میں گزشتہ اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ اس طرح کے 141 کیس مختلف عدالتوں میں زیر التواء ہیں. چیئرمین کمیٹی نے ہدایات دیں کہ ٹرائل کورٹس میں زیر التواء کیسز کی بھی تفصیلات کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں.کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، دوست محمد خان، شہادت اعوان ، انور لال دين ، جام مہتاب حسین دھر، سیمی ایزدی، متعلقہ وزارت اور اے این ایف کے حکام نے شرکت کی،

چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

 تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران