fbpx

ڈہرکی ٹرین حادثہ، جاں بحق مسافروں کی تعداد 37 ہو گئی

صوبہ سندھ میں ڈہرکی کے قریب ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس کے تصادم میں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کی تعداد 37 مسافر ہو گئی-

باغی ٹی وی : ایس ایس پی گھوٹکی عمرطفیل نے بتایا کہ 20 سے 25 افراد کے ابھی بھی بوگیوں کے نیچے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔

ڈی ایس ریلوے طارق لطیف نے حادثے سے متعلق بتایا کہ ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے 2منٹ بعد ہی سرسید ایکسیریس متاثرہ بوگیوں سے ٹکراگئی۔

طارق لطیف کا کہنا ہے کہ حادثے میں اپ ٹریک کا1100فٹ کا حصہ متاثر ہوا ہے،جبکہ ڈاؤن ٹریک کا300 فٹ حصہ متاثر ہوا۔

ذرائع کے مطابق ٹرین حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں، بھاری مشینری تاحال جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی ہے۔

تحصیل دار ڈہرکی کا کہنا ہے کہ دشوار گزار راستوں کی وجہ سے ہیوی مشینری پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے، سندھ رینجرز اور پاک فوج امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

طارق لطیف کا کہنا ہے کہ دو ماہ قبل حکومت کو خط لکھ کر کہہ دیا تھا کہ سکھر ڈویژن کا ٹریک درست نہیں ہنگامی بنیادوں پر مرمت ضروری ہے مگر کسی نے میری بات پر کارروائی نہ کی اور نتیجے کی صورت میں یہ حادثہ ہو گیا-

واضح رہے کہ ڈہرکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے باعث 30 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی ہوگئے ہیں کراچی، سکھر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ سینٹر قائم کردیئے گئے ہیں سکھر, گھوٹکی, میرپور ماتھیلو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے پاک فوج،رینجرز،ریسکیو،پولیس اور ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.