fbpx

ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

کوشش کر رہی ہوں کہ اس بات کو عام فہم انداز میں سمجھا سکوں.

دنیا کا کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا. بعض کجیاں واضح ہوتی ہیں اور بعض غیر واضح. بعض ہمارے معاشرے میں بآسانی تسلیم کر لی جاتی ہیں. جیسے اپنی مثال دیتی ہوں. میری نظر آٹھ سال کی عمر میں ہی کمزور ہوگئی تھی. امی نے فوراً ہی میری آئی سائٹ چیک کروائی. ڈاکٹر سے پوچھ کر ہر وہ خوراک کھلائی جس سے نظر تیز ہو. یہ زیادہ تر گھروں میں عام رویہ ہوتا ہے. اسی طرح اگر کوئی لڑکا یا لڑکی جنس مخالف کی طرح حرکتیں کرتا/ کرتی ہے، تو گھر والوں کو اس، کا سدباب کرنا چاہیے. یہاں پہ لڑکے کی مثال اس لیے دے رہی ہوں کہ یہ مثالیں ہمارے اردگرد زیادہ ہیں. اگر کسی گھر میں بہنیں زیادہ ہیں تو اکلوتا لڑکا ہر وقت ان کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر لڑکیوں کی عادات و حرکات نادانستگی میں اپنا لیتا ہے اور اگر شروع میں ہی اس کا سدباب نہ کیا جائے تو عمر بڑھنے کے ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتی جاتی ہیں. پھر ایسے لڑکے جانِ محلہ کہلاتے ہیں. ان کو ایکسپلائٹ کرنے میں خاندان اور محلے کے اوباش اور بدفطرت لوگوں کا بہت بڑا، ہاتھ ہوتا ہے.

یہاں بات مکمل مرد اور عورت کی ہو رہی ہے خواجہ سراؤں کی نہیں خواجہ سراؤں کی اس وقت جو حالت ہے اس کے زمہ دار ہم سب ہیں. ہم نے انہیں تفریح طبع کا سامان بنا کر رکھ دیا. ان کا پورا حق ہے کہ انہیں بھی ہر طرح کے مواقع ملیں جو کسی بھی مرد یا عورت کو ہمارے معاشرے میں حاصل ہیں. اس کے لیے ہر قسم کی قانون سازی ضروری ہے لیکن ان کی آڑ میں جو مزموم سازش رچائی جا رہی ہے اس کے لیے آواز اٹھانا انتہائی اہم ہے.

اس قانون سے وہ لوگ فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں جو مکمل مرد اور عورت ہیں لیکن اپنی جنس سے خوش نہیں. صاف لفظوں میں بیان کیا جائے تو ان کو ہم جنس پرستی کی آزادی چاہیے. میں یہ نہیں کہتی کہ یہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہے لیکن کیا جو گناہ اور جرم ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے اس کو قانونی جواز اور اجازت دے دیں.

جس فعل کے بارے میں قرآن پاک میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے. آپ اس کو شخصی آزادی اور ترجیح کے نام پر حلال نہیں کر سکتے. ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں دین کی معمولی شد بدھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ یہ حرام ہے. جو کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں.. اس کے باوجود یہ ہمارے معاشرے میں پنپ رہا ہے. اگر اس کو قانونی استحکام مل گیا تو سوچییے کیا حشر ہوگا. یہ لمحہ فکریہ ہے. اس پہ آواز اٹھانی ہے. یہ ہماری نسلوں کی بقا اور ہماری آخرت کا معاملہ ہے.