fbpx

ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ترمیم پر غور کیا جارہا ہے. چیئرمین سینیٹ

چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے کمیٹی میں غور کیا جا رہا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر کا بل مارچ 2018ء کا بل ہے، جو میرے چیئرمین بننے سے پہلے منظورہوا۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد نے بل میں ترامیم پیش کی ہیں، جن سے متعلق کمیٹی میں غور کیا جارہا ہے ۔ چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ایوان بالا کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جواسلامی قوانین کے منافی ہو۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ مشاورت کے ساتھ اس معاملے کو حل کریں گے، لہٰذا اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے ۔ ضرورت پڑی تو علمائے کرام اوراسلامی نظریاتی کونسل سے بھی مشاورت کریں گے۔ نئے وزیر خزانہ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈارکا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ وہ آئیں گے، حلف اٹھائیں گے تو کوئی اعتراض نہیں۔

خیال رہے کہ: 2018 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے باہمی اتفاق سے بننے والے اس ایکٹ کا آج کل خوب چرچا ہے. ایک طبقہ اس کو اسلام سے منافی، فحش، ہم جنس پرستی کو فروغ دینے والا، آئین پاکستان کی بنیادی رو کے خلاف، قرآن و سنت سے متضاد اور ہمارے معاشرتی اقدار کی توہین قرار دے رہا ہے. تو دوسرا طبقہ اس کو خواجہ سراؤں کے بنیادی حقوق، ان کے دیرینہ مسائل کا حل، ان کی جدوجہد کا ثمر، ان کے معاشرے میں ایک انسان ہونے کی حیثیت کو تسلیم کرنا، ان کو جائیداد، جنس، نوکری، کاروبار اور دیگر حقوق کی ضمانت قرار دے رہا ہے. محمد رحیل کے مطابق: اس بل کا اگر جائزہ لیں تو یہ واقعی اسلام کے منافی نہیں، اسلام نے واضح طور پر اصول دیا ہے کہ جو مردوں کے زیادہ قریب ہوں اس کو مردوں جیسے اور جو عورتوں کے زیادہ قریب ہوں انہیں عورتوں جیسے حقوق دیے جائیں.انہیں وہ مکمل حقوق دیے ہیں جو دیگر انسانوں کے لیے ہیں تو پھر ان کو ایسے حقوق دینے کی کوئی کیونکر مخالفت کرسکتا ہے؟