fbpx

طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

کہا جاتا ہےکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔نام نہاد ساستدانوں کا نعرہ سالوں سے سنا جا رہا ہے ۔صوبوں میں سیلابی ریلے میں طاقت کا چشمہ بہہ رہا ہے ۔ بعض مقامات پر لاشیں بہہ رہی ہیں۔ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں ۔نہ کھیت نہ گھر ،نہ مال مویشی ،جان لیوا بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسر طرف اسلام آباد میں سیاستدانوں کا جنگی ماحول جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اختیارات، مفادات، اقتدار کی جنگ ہوس زر اور ہوس اقتدار نے انہیں دیوانہ بنا دیا۔ جس ملک کے ماہرین اقتصادیات کے مطابق معیشت آخری سانس لے رہی ہو کیا وہاں کے حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروا کر وکٹری کا نشان بناتے ہیں؟

 

چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

پنجاب اور مرکز میں جو کھیل جاری ہے کیا اس کا فائدہ ملک و قوم کو ہو رہا ہے ؟ ہر طرف اخلاقی تباہی دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ یہ قوم کہیں کسی سیلاب میں بالکل بہہ نہ جائے ؟ 75 سالوں میںپاکستان کو جس بھنور میں پھنسا دیا ہے اس کا تصور کرنا بھی محال ہو گیا ہے۔ عصر حاضر کے وطن عزیز کے حالات و واقعات نے روشن مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ صوبوں میں سیلاب زدگان کی آہ وبکا نے زندہ دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو کل تک اپنے گھروں میں تھے وہ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں بلوچستان کو تو سیلابی ریلے نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ قیامت کی اس گھڑی کو اس قدر قریب سے دیکھنے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہ کرے تو کیا کہا جائے؟

جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

یہ ملک کسی سیاستدان، کسی جاگیردار، کسی وڈیرے، کسی سرمایہ دار، کسی جرنیل، کسی بیورو کریٹ کی جاگیر نہیں یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

حکومت میں شامل جماعتیں ہوں یا اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں 75 سالوں کے بعد بھی ہم بالغ نظر، باصلاحیت اور معاملہ فہم قیادت سے شاید محروم ہیں۔ مشکل حالات میں اختلافات کو اجاگر کرنے کے بجائے بالغ نظری کا مظاہرہ کریں ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کے لئے مل بیٹھیں اور عالمی دنیا کو تاثر نہ دیں کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے۔ ہوس اقتدار، ہوس زر، ہوس اختیارات، ہوس مفادات سے باہر نکل کر ملک و قوم کے مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک دوسرے پر غداری کے فتوے نہ لگائیں اس ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وزرات عظمیٰ پر بیٹھنے والوں پر کیا گزری اور کیا گزر رہی ہے سبق حاصل کریں ورنہ تاریخ بار بار دہرائی جاتی رہے گی۔