وزیراعظم کےعوامی فیصلوں کی این جی اوزمخالفت کیوں کرنے لگیں،اہم وجہ سامنے آگئی ، شرم کا مقام

اسلام آباد :وزیراعظم عمران کے عوامی فیصلوں کی این جی اوزمخالفت کرنے لگیں،اہم وجہ سامنے آگئی ، شرم کا مقام ،اطلاعات کےمطابق بد عنوانی پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ (سی آئی ڈی بی) کی مخالفت کردی۔معتبرذرائع کےمطابق یہ ایک ریاست مخالفت قوتوں کی چال ہے جس کے تانے بانے کئی جگہوں سے ملتے ہیں‌

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وفاقی حکومت کو لکھے جانے والے خط میں مجوزہ کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بورڈ بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیاہے۔خط میں پلاننگ کمیشن کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام نہ اٹھایا جائے جو غیر آئینی اور غیر قانونی ہو۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن (کیپ) کے بااثر کنٹریکٹر سی آئی ڈی بی کا بل منظور کروانے کے لیے متحرک ہیں، لیکن ایسے کنسٹرکشن بورڈ کی تشکیل غیر آئینی ہوگی۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا کہ سی آئی ڈی بی دنیا کا واحد ادارہ ہوگا جو اپنے کام کا خود ہی نگران ہوگا۔ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کنسٹرکشن بورڈ کی مجوزہ تشکیل سے کنسٹرکشن انڈسٹری میں کرپشن ہوگی اور تعمیراتی صنعت چند سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے کنٹریکٹرز کے ہاتھ میں چلی جائے گی جب کہ بورڈ میں نان انجینئرکنٹریکٹرزکی اکثریت ہونے کے باعث یہ غیرجانبدارانہ کام نہیں کرسکے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم نے ملک کے تعمیراتی شعبے کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سال تک تعمیرات کے کام میں پیسہ لگانے والوں سے پوچھا نہیں جائے گا کہ پیسہ کہاں سے آیا، تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا، جو فیملی بھی گھر بیچے گی اس پر کیپٹل گین ٹیکس نہیں لگے گا۔

جبکہ ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اس این جی او کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کسی ملک کے پالیسی سازاداروں کومشورہ دے سکیں یا ان کے ترقیاتی کاموں میں‌ رکاوٹ بن سکیں پھرٹرنسپرنسی انٹرنیشنل نے یہ کام کیوں کیا

باغی ٹی وی کو معتبرذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے کچھ این جی اوز غیرملکی قوتوں کی ہدایات پرپاکستان کی سیاسی جماعتوں کے سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں ، اس کی تازہ مثال چند دن قبل ایک ایسی این جی او جس کا کام صرف الیکشن کے دوران شفافیت کا جائزہ لینا ہوتا ہے ا س نے بھی وزیراعظم عمران خان کی طرف سے عوام میں پیسوں کی تقسیم اورکئی ترقیاتی فیصلوں پرتنقید کی

اس سے قبل بھی چند دن قبل ایک ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نام سے ایک این جی او نے وزیراعظم عمران خان کے عوامی فیصلوں پرتنقید کی اوران دونوں این جی اوز کا سکرٔپٹ وہی تھا جو قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اپنی تقریروں میں بیان کرتے رہے ہیں‌

آج کے این جی او کے فیصلے پرقانونی حلقوں نے بھی اس این جی او کے دائرہ اختیار پراعتراض کیا ہے ، دوسری طرف اسلام آباد سے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان این جی اوز کی ان سازشی تھیوروں کا پتہ بھی لگا رہی ہے اوران کے دائرہ کارکو بھی مانیٹرکررہی ہے اورممکن ہے کہ چند دن تک ان کے لیے کوئی قانون وضع ہوجائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.