fbpx

ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے وزراء کی کارکردگی متعین کی جائے گی، عمران خان

حکومت نے رواں مالی سال 21-22 میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کی گئی رقم میں 40 فی صد اضافے کے بعد ترقیاتی کاموں کی رفتار اور فنڈز کے مؤثر وصحیح استعمال کی نگرانی کیلئے جامع حکمتِ عملی تیارکرلی ہے.

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت PSDP کے مؤثر استعمال پراجلاس ہوا ہے.

اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، حماد اظہر، مراد سعید، عمر ایوب خان، معاونینِ خصوصی ملک امین اسلم، ڈاکٹر فیصل سلطان اور متعلقہ اعلی افسران کی شرکت وزیرِ خزانہ شوکت فیاض ترین وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے ہیں، اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی کاموں کی رفتارکو تیز کرنے کیلئے فنڈز کے اجراء کے طریقہ کارکو آسان اور منظم کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے اس میں لچک پیدا کی گئی ہے، وزارتوں کو منصوبوں کی ضروریات کے مطابق فنڈز جاری کرنے کیلئے مزید با اختیار بنایا گیا ہے.

اجلاس کو گزشتہ مالی سال میں خرچ کئے گئے فنڈز پر تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ فنڈز کے استعمال کی شرح مجموعی طور پر 104 فی صد رہی جو کہ یہ واضح کرتی ہے کہ ترقیاتی کاموں پر بھرپور پیش رفت ہوئی ہے، اسکے علاوہ بین الاوزارت اور شعبوں کے مابین نگرانی کے نتیجے میں 140 ارب کے فنڈز تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھے اور بڑے پیمانے پر ملکی ترقی پر مثبت اثر ڈالنے والے منصوبوں کو منتقل کیے گئے جس سے نہ صرف عوامی ٹیکس کی بچت ہوئی بلکہ فنڈز ضائع ہونے سے بچا لئے گئے ہیں.

علاوہ ازیں اجلاس بتایا گیا کہ وزارتِ منصوبہ بندی منصوبوں کی تکمیل کی مسلسل نگرانی کرہی ہے جسکے لئے ایک جامع طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جسکی وجہ سے منصوبوں میں بچت اور فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے.

اجلاس کو مزید بتایا گیا رواں سال کوشش کی گئی ہے کہ جاری منصوبوں کی جلد سے جلد تکمیل کیلئے فنڈز کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے گی، اس ضمن میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70 فی صد جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 30 فی صد فنڈز مختص کیے گئے ہیں، مجموعی طور پر 351 ترقیاتی منصوبوں کو تکمیل کیلئے مکمل فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، وزارتوں میں منصوبوں کی نگرانی کی استعداد کو مستقل بنیادوں پر بڑھایا جا رہا ہے، جس سے سارا سال منصوبوں کی متواتر نگرانی ممکن ہو سکے گی، اسکے علاوہ فلیگ شپ منصوبوں کی نگرانی کے کام میں تھرڈ پارٹی فرمز کو بھی شامل کیا جائے گا جس سے کام کی رفتار میں تیزی اور شفافیت پیدا ہوگی.

اس امرمیں شامل طریقہ کار کو خودکار بنانے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ PC-I اور PC-II کو مکمل طور پر کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے اور وزارتِ منصوبہ بندی روان سال کاغذی فائلیں قبول نہیں کررہی ہے، مزید تمام وزارتوں کے سیکٹریز31 جولائی تک کیش اور ورک پلین پیش کریں گے اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے انکی اور وزارتوں کے اہلکاروں کی کار کردگی متعین کی جائے گی، اجلاس کو E-Procurement اور E-Payment کے نظام پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے، اسکے علاوہ وزارتِ منصوبہ بندی وزیرِ اعظم کو اس حوالے سے ان اقدامات پر پیش رفت پر سہ ماہی رپورٹ بھی پیش کرنے کو یقینی بنائے گی.

وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی ذمہ داریوں میں سے اولین عوام کے ٹیکس کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے، نظام میں آٹومیشن لانے کیلئے اقدامات پرعملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، ای ٹینڈرنگ جیسے اقدامات کرپشن ختم کرنے کیلئے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، اسکے علاوہ وزارتوں کے کام کے طریقہ کار کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور منصوبوں کی اہمیت کے حساب سے درجہ بندی کرکے وسائل کا استعمال کیا جائے گا.