fbpx

ٹرینڈنگ انصاف تحریر: علی خان

"یہ عدالت نہیں کچہری ہے جی یہاں انصاف نہیں ملتا ! یہاں صرف تریخیں ملتی ہیں اور بندے کے پاس پیسہ ہو تو فیصلہ بھی مل جاتاہے لیکن انصاف نہیں ملتا” ۔ گرمی سے بچنے کے لیے سر پر ململ کا صافہ رکھے، ہاتھ میں کاغذوں سے بھرا تھیلا پکڑے اور پسینے میں شرابور نوجوان کی آواز میں چھپا کرب ، مایوسی اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔میں لاہور کی مقامی عدالت کے باہر کسی کام کے لیے موجود تھا۔پتا معلوم نہ ہونے پر نوجوان سے ایک عدالت کا راستہ پوچھا تو اس نے اپنے تئیں میری ان الفاظ سے تصحیح کی۔استفسار پر معلوم ہوا کہ دادا کی زمین پر بااثر زمیندار نے قبضہ کیا تھا ۔ دادا سے شروع ہونے والا کیس سے پوتے تک آن پہنچا لیکن فیصلے کا کوئی اتا پتا نہیں ۔
"سوچتا ہوں کہ میرے دادے کے ٹائم میں نیٹ والا موبائل ہوتا تو شاید ہمارا بھی مسئلہ حل ہوجاتا” داد اللہ نامی اس نوجوان کی بات نے میری پوری توجہ اسکی جانب مبذول کروادی۔ "کیوں بھئی نیٹ والے موبائل کا تمہارے کیس سے کیا تعلق؟؟؟ "۔ ” او جی اب توجس ماملے کی خبر نیٹ پر آجائے و ہ اے سی، ڈی سی وزیراعظم سب کو پتا لگتی ہے اور مسئلہ فٹافٹ حل ہوجاتا ہے”۔ داد اللہ نے میرے علم میں تسلی بخش اضافہ کیا۔
دور جدید میں یہ خواہش صرف داد اللہ نامی اس نوجوان کی ہی نہیں بلکہ عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹتے ، انصاف کے منتظر ان لاکھوں پاکستانیوں کی ہے جو لین دین کے تنازعات سے لے کر قتل کے مقدمات تک میں انصاف کی راہ تک رہے ہیں ۔روایتی نظام انصاف میں ایک بار معاملہ عدالت تک جاپہنچے تو دن مہینوں میں ، مہینے سالوں میں اور سال دہائیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن انصاف کی دیوی مہربان ہی نہیں ہوتی۔ کمزور فریق یا تو تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے یا پھر نسل در نسل انصاف کی دہائیاں دیتا رہتا ہے۔ اس صورتحال میں اللہ داد کی یہ تھیوری سو فیصد درست بیٹھتی ہے کہ اگر آپکا مسئلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے تو انصاف گویا آپکی دہلیز تک آن پہنچتا ہے۔ حالیہ کچھ سالوں میں زینب قتل کیس ہو یا شہریوں کی جائیدادوں پر قبضے کا معاملہ، کسی بچے کا مرغا زہریلا پانی پینے سے مر جائے یا پھر کسی طاقتور نے غریب پر ظلم کیا ہو، جو ویڈیو یا خبر سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی ، ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ میں آگئی،فیس بک پر شیئر ہوگئی واٹس ایپ پر وائرل ہوگئی تو اس پر لمبی تانے سوئے حکام گڑبڑا کر جاگ اٹھتے ہیں اور مظلوم کی داد رسی ہوجاتی ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر اب کسی بھی مسئلے میں گھرے شہری کی توجہ تھانے، سوئی گیس دفتر، واپڈا، کے الیکٹرک اور دیگر محکموں کی جانب نہیں جاتی بلکہ فون نکال کر ویڈیو یا پوسٹ بنائی جاتی ہے اور اس امید پر اپ لوڈ کردی جاتی ہے کہ اگر کسی صاحب اختیار کی نظر پڑ گئی تو داد رسی ہوجائے گی۔ یہاں اداروں پر کم ہوتے عوامی اعتماد کا تو سوال اپنی جگہ لیکن یہ سوچنا زیادہ ضروری ہے کہ وہ علاقے اور خطے جہاں انٹرنیٹ کی مکمل رسائی نہیں ہے، جہاں عوام ٹیکنالوجی کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے وہاں انصاف کی فراہمی کی صورتحال کیا ہے؟انہی پسماندہ علاقوں میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور امیر وڈیروں کے غریبو ں پر انسانیت سوز مظالم کی کہانیاں کئی کئی ماہ بعد سامنے آتی ہیں۔ بعض صورتوں میں جرم کا سراغ لگانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ارباب دانش کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگی کہ انصاف کا پیمانہ صرف ٹرینڈنگ ہی نہ بن جائے بلکہ نظام انصاف کی کمزوریاں اور خامیاں دور کی جائیں تاکہ ہر عام و خاص تک انصاف کی فراہمی بلاتفریق یقینی بنائی جاسکے۔