ورلڈ ہیڈر ایڈ

افغان طالبان باتوں باتوں میں‌ بہت مارتے ہیں‌، ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان ، باغی ٹی وی کا دعویٰ سچ نکلا

واشنگٹن: ان حالات میں امن مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں کہ جب ایک طرف مذاکرت ہورہے ہوں تو دوسری طرف افغان طالبان امریکی فوجیوں کو بری طرح ماربھی رہے ہیں ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کابل میں حملے کے بعد افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکہ اور افغان طالبان کے حوالے سے چند ہفتے  قبل ہی باغی ٹی وی نے مذاکرات ناکام ہونے کی پشین گوئی کردی تھی اور بالآخر پھر وہی ہوا

دوحہ مذاکرات ناکام ، افغان طالبان کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہوسکا- امریکی صدر سچ بول گئے

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ آج رات طالبان رہنماؤں اورافغان صدر کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہونی تھیں، جب کہ کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان رہنماؤں کیساتھ خفیہ ملاقات بھی طے تھی جس کو منسوخ کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے غلط بیعانہ بنانے کیلیے افغان طالبان نے کابل حملے کا اعتراف کیا جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد کو ہلاک کردیا۔

 

افغان طالبان نے67 سے زائد افغان کٹھ پتلی ،امریکی اور اتحادی مارڈالے ، قندوز کا کافی علاقہ فتح کرلیا


وائٹ ہاوس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ میں فوری طور پر طالبان کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور مذاکرات کو منسوخ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا طالبان اپنی مذاکرات کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلیے اتنے سارے لوگوں کو مار ڈالیں گے؟ انہوں نے بہت برا کیا۔

 

قندوز کے بعد افغان طالبان کی پل خمری پر قبضے کی خبریں

 

ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے مزید لکھا کہ اگر طالبان ان اہم امن مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر راضی نہیں ہوسکتے ہیں اور یہاں تک کہ 12 بے گناہ لوگوں کو بھی ہلاک کردیں گے تو پھر شاید ان میں اتنی طاقت نہیں ہوگی کہ وہ معنی خیز معاہدے پر بات چیت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کتنی دہائیوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.