مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی بات پر بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے، سید علی گیلانی

حریت کانفرنس گ کے چیئرمین اور بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش سے بھارتی ایوانوں میں مچی افراتفری اور کھلبلی دیکھنے کے لائق ہے، عالمی سطح پر حقائق کی ہلکی سی جھلک سے بھی بھارتی حکمران اور حزب اختلاف تلملا اٹھے ہیں،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزرگ کشمیری قائد نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بہت ہی جرات اور بے باکی سے نہ صرف عالمی امن کی خاطر بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کی خوشحالی کے لیے ایک دوٹوک اور واضح موقف اپنا کر دنیا کے سامنے مظلوم کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کی ہے، انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیری قوم کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی اور اطمینان کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اُن کے حقوق کی بات اعلیٰ ایوانوں میں کہی اور سُنی جارہی ہے، سیدعلی گیلانی نے کہاکہ امریکی صدر کی طرف سے پوری دنیا کے سامنے بھارتی حکمرانوں کی ثالثی کی درخواستوں کا چونکا دینے والا انکشاف مظلوم کشمیری قوم کیلئے حوصلہ افزا ہے،

انہوں نے کہا کہ اس انکشاف نے بھارت کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ جھوٹ ، فریب اور دھوکے سے فوجی طاقت کے بل پر جس علاقے کو بھارتی حکمران اپنا اٹوٹ انگ قراردے رہے تھے وہ اب حقائق اور سچائی کے معمولی سے اظہار کو بھی سہ نہیں سکے ہیں، انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع نے کہاتھا کہ مسئلہ کشمیر بہت جلد حل ہونے جارہا ہے اور اب بھارتی وزیر اعظم کی دنیا کے اہم اور طاقتور ملک کے صدر کو مصالحت کی درخواست کا انکشاف ہمارے اس دیرینہ موقف کی تائید ہے کہ اس متنازعہ مسئلہ کو انسانیت کی بقاءاور خطے کے غریب اور پسماندہ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے جلد از جلد حل کرنا موجودہ گھمبیر عالمی صورتحال میں سب سے اہم ہے،

حریت چیئرمین نے امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ 1947ء سے ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے خود استصواب رائے کے حوالے سے راہنمانہ خطوط ترتیب دیے ہیں، دنیا کے اس طاقتور ملک کو اپنی منصبی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے دیرینہ موقف کی روشنی میں جموں و کشمیر کے عوام کو خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینے کیلئے اپنا اثرورسووخ استعمال کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی طرف سے ثالثی کی پیشکش اگرچہ خوش آئندہ ہے، لیکن جو ملک 71سال سے مسئلہ کشمیر جیسی جیتی جاگتی حقیقت کو بڑی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے جھٹلا رہا ہے اور بے تحاشا طاقت کا استعمال کرکے ایک نہتی قوم کے حقوق پر شب وخون مار رہا ہے اس کو ثالثی کی پیشکش نہیں، بلکہ اُس سے حقائق منوانے کی ضرورت ہے، تاکہ اُس کی ضد اور ہٹ دھرمی سے عالمی امن کو جو خطرات لاحق ہیں اُن سے بروقت بچاسکے،

دریں اثناء حریت کانفرنس نے وضاحت کی ہے کہ ان کا کوئی ٹویٹر اکاؤنٹ‌ نہیں‌ ہے اور انہوں نے دو دن قبل اس سلسلہ میں میڈیا کو کوئی خبر جاری نہیں‌ کی تھی،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.