ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

0
6

ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس دنیا بھر کے 192 ممالک میں پھیل چکا ہے، کرونا سے اموات اور مریضوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے ابھی تک کرونا وائرس کا علاج دریافت نہیں ہو سکا، سائنسدان ویکسین بنانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں تا ہم کسی کوابھی تک کامیابی نہیں ملی ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کی ایک خبر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے لئے ایک اچھی دوا ، جس کا نتیجہ آ چکا ہے اس کا کل نیویارک اور دوسرے علاقوں میں استعمال شروع کر دیا جائے گا.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر پر جو خبر شیئر کی اس میں امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا ایک مریض جو انتہائی تشویشناک حالت میں تھا ، وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بتائی ہوئی دوائی استعمال کرنے سے ٹھیک ہوگیا ہے

امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ ریو جیارڈنیری کا کہنا ہے کہ وہ 5 دن تک کمر درد، دردِ شقیقہ، کھانسی  اور تھکاوٹ سے تنگ آکر جنوبی فلوریڈا کے جو ڈی ماگیو چلڈرن ہسپتال گئے جہاں ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ایک ہفتے تک علاج کے بعد ڈاکٹرز نے کہا کہ وہ میری زندگی بچانے کیلئے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے، یہ ایک ایسا وقت تھا جب میں بہت مشکل سے ہی سانس لے سکتا تھا، میں نے اپنی بیوی اور تین بچوں سے آخری ملاقات بھی کرلی تھی۔ تشویشناک حالت کے دوران ان کے ایک دوست نے انہیں وہ آرٹیکل لکھا جس میں ملیریا کا علاج کرنے والی ہائیڈروکسی کلوروکوئین کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ میں نے وبائی امراض کے ڈاکٹر سے اس دوائی کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس دوائی کو استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، 30 منٹ کی بحث کے بعد مجھے بڑی مشکل سے یہ دوائی دی گئی

کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے مریض کا کہنا تھا کہ دوائی کی اس ڈوز کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا کہ ان کا دل سینے سے باہر دھڑک رہا ہے، 2 گھنٹے بعد انہیں پھر سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد بینا ڈول اور دوسری ادویات دی گئیں، اس کے بعد میں سوگیا اور صبح 04:45 پر میری آنکھ کھلی تو ایسا لگا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔اس کے بعد سے اب تک نہ تو اسے بخار ہوا ہے اور نہ ہی کرونا کی کوئی اور علامت ظاہر ہوئی ہے۔

صحتیاب ہونے والے مریض کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ ہائیڈرو کسی کلوروکوئین کی ڈوز دینے کے بعد جو معاملہ پیش آیا تھا وہ دوائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ میرا جسم وائرس کے ساتھ جنگ کر رہا تھا جس کی وجہ سے مجھے شدید جھٹکے لگ رہے تھے ،انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بتائی ہوئی دوائی کی تین مزید خوراکیں دی جائیں گی اور اگلے 5 دن میں انہیں ڈسچارج کردیا جائے گا۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین سے صحتیاب ہونے والے معاملے کی یہ صرف ایک مثال ہے، اس لیے اس دوائی کو کورونا کا علاج سمجھ کر اپنے طور پر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے اور جب تک سرکاری سطح پر کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک کورونا وائرس کے باضابطہ علاج کا انتظار کیا جائے ، بصورت دیگر دوائی کے سائڈ افیکٹس بھی ہوسکتے ہیں جس کا مریض خود ذمہ دار ہو گا.

بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ

بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ، کتنے مریض ہوئے صحتیاب؟

کرونا وائرس کا خدشہ، مساجد کو تالے لگ گئے، نمازیں گھر پر پڑھنے کا حکم

پنجاب میں لاک ڈاؤن کا نوٹفکیشن جاری، جنازے کے لئے بھی لینی پڑے گی اجازت

گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والے خطرناک ترین کورنا وائرس سے اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا، وبا سے ہلاکتیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں، 190 ممالک و خودمختار علاقوں میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 16 ہزار 100 ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کےمریضوں کی تعداد3 لاکھ 66ہزار948ہو گئی ہے جب کہ کورونا سےصحتیاب ہونےوالوں کی تعداد ایک لاکھ، 1ہزار65 ہے، پاکستان میں کرونا وائرس سے 6 ہلاکتیں ہو چکی ہیں.

 

کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

Leave a reply