fbpx

ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔