fbpx

ترکی میں لگی خوفناک آگ، حادثاتی یا تخریب کاری تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہزاروں سال پرانی تاریخ قدرتی حوادث سے بھری پڑی ہے، جہاں ایک طرف تو زلزلوں نے شہر کے شہر تباہ کردیے وہاں آگ نے بھی ایسے بہت سے شہر صفحہ ہستی سے جلا کر راکھ کردیے

ترکی کا وسیع رقبہ جنگلوں اور پہاڑوں پر مبنی ہے، محکمہ جنگلات محکمہ پانی و زراعت سے بھی بڑا ہے ہر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے باقاعدہ راستہ بنایا جاتا ہے تقریباً ہر سال گرمیوں میں ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا ایک معمول کا عمل ہے، سخت گرمی میں سورج کی دھکتی شعاوُں سے ایسا ممکن ہے کیونکہ زیادہ تر درخت چیڑ کے ہیں جو بڑی جلدی آگ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ واقعات میں ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتلوں نے بھی میگنیفائر کا کام کیا، مگر سب سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات پکنک منانے والوں کی باربی کیو کی آگ یا پھر چلتی گاڑی سے سگریٹ پھینکنے سے ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی لاپروائی سے منٹوں میں سینکڑوں ایکڑ جنگل جل کر راکھ ہوجاتا ہے اور آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے یا دن لگ جاتے ہیں کیونکہ مسلسل سمندر سے زمینی علاقوں اور زمینی علاقوں سے سمندر کی طرف چلنے والی تیز ہوائیں بھی آگ کو پھیلانے میں مدد دیتی ہیں۔

ترکی ہر سال اس آگ سے نپٹنے کے لئے پانی لانے والے نئے جہاز، ہیلی کاپٹر یا جنگل اور پہاڑی راستوں پر اسانی سے چلنے والی گاڑیاں خریدتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان مشکل حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے آگ بجھانے والے آلات کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھی کرتا رہتا ہے

آگ لگانے کے تخریبی واقعات بھی عام ہیں اور یہ زیادہ تر مشہور سیاحتی مقامات کے قریبی ان جنگلات میں ہوتے ہیں، جہاں محکمہ ماحولیات نے ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد رہائشی منصوبے یا ہوٹلز وغیرہ کی تعمیر کی اجازت مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر موئلہ صوبے کے سب سے مشہور سیاحتی مرکز بودروم شہر کے اس ہوٹل تک بھی آگ پہنچ گئی ہے جو اس جگہ تعمیر کیا گیا تھا جہاں جنگل میں کچھ سال پہلے آگ لگی یا جان بوجھ کر لگائی گئی تھی مگر بعد میں نئے درخت لگانے کی بجائے ہوٹل کی تعمیر کی اجازت مل گئی تھی۔

موجودہ آگ کو ترک ماہرین اور تجزیہ نگار ماحولیاتی دہشتگردی کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ شرپسندوں کی طرف سے جنگلوں میں آگ لگانے کے اتنے وسیع اور منظم طریقے سے تخریب کاری پہلی دفعہ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں صرف چار دن میں (اٹھائیس سے اکتیس جولائی تک) 26 صوبوں کے 98 سے زائد مقامات پر اچانک آگ کا بھڑک اٹھنا بھی اس بات کا ثبوت ہے اور پولیس کے ہوائی ڈرونز نے بھی مختلف جگہوں پر شرپسندوں کو آگ لگاتے کیمرے کی آنکھ سے پکڑا ہے اور اس بار یہ آگ صرف سیاحتی مراکز ہی نہیں بلکہ دور دراز کے شہری علاقوں کے قریبی جنگلات میں بھی لگائی گئی ہے جس کے نتیجے میں بوقت تحریر 4 قیمتی انسانی جانوں کے نقصان علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور جنگلی جانور تلف ہوچکے ہیں، املاک کے نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی تقریبا ناممکن ہے۔ آگ بجھانے کے لیے 45 ہیلی کاپٹر، 6 عدد پانی لے جانے والے ہوائی جہاز، 1080عدد فائیربرگیڈ کی گاڑیاں، 2270 عدد ابتدائی مداخلت والی جییپیں، 10,550 آگ بجھانے کے ماہرین 280 عدد پانی کے ٹینکروں کی مدد سے کوشاں ہیں، ترک صدر جناب رجب طیب ایردوآن کی طرف سے پانچ صوبوں (انطالیہ، میرسن، عثمانیہ، موئلہ اور عادانا) کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر ایمرجنسی لگا دی گئی ہے

دو تین سال پہلے جب یونان کے مختلف علاقوں میں آگ لگی تھی تو ترکی نے ہمسایہ ملک کی بھر پور مدد کی تھی آگ بجھانے میں مگر آج حالات یہ ہیں کہ ترکی کے اپنے آگ بجھانے کے وسائل ناکافی ہوچکے ہیں، آزربایجان اور یوکرین نے اپنے ہوور جہاز مدد کے لیے بھیجے ہیں . پاکستان نے بھی ترک بھائیوں کی ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے

امید اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ترکی کو اس مشکل وقت اور سخت امتحان سے جلد نکالے۔ مالی اور جانی نقصان پر صبر عطا کرے۔ آمین

@Tarvelogue