2017 میں واشنگٹن میں سفارتخانے پرامریکی مظاہرین کے حملے کوکچلنے پرترکی کوبہت خوشی ہوئی ، یروشلم پوسٹ کا دعویٰ

تل ابیب : 2017 میں واشنگٹن میں سفارتخانے پرامریکی مظاہرین کے حملے کوکچلنے پرترکی کوبہت خوشی ہوئی ، یروشلم پوسٹ کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی معروف اخبار یروسلم پوسٹ نے دعویٰ کیا ہےکہ انقرہ اس وقت خوش ہوا جب اس کی سکیورٹی فورسز نے واشنگٹن میں واقع اپنے سفارت خانے میں 2017 میں امریکی مظاہرین پر بلاوجہ حملہ کیا۔

یروشلم پوسٹ کا یہ دعویٰ ہے کہ سچ تو ہے کہ ترکی حالیہ مہینوں میں متعدد ممالک کو دھمکیاں دیتا رہا ہے،یروشلم پوسٹ کا کہنا ہےکہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ترکی کی حکمران جماعت اسرائیل کو پسند کرتی ہے۔ واقعی ،

ترکی اسرائیل کے ساتھ دنیا کے سب سے زیادہ دشمن ممالک میں سے ایک ہے۔ ترکی کے صدر نے رواں سال دو بار حماس کے دہشت گردوں کی میزبانی کی ہے ، اسرائیل کا مقابلہ نازیوں سے کیا ہے اور خلیجی ریاست اور اسرائیل کے معمول کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات سے تعلقات توڑنے کی دھمکی دی ہے۔

یروشلم لکھتا ہے کہ حال ہی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور انقرہ میں قیادت اسرائیل کے بارے میں نسبتا خاموش کیوں ہے؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی بھر پور حمایت کی وجہ سے ترکی اسرائیل کے ساتھ کسی بحران کو بھڑکا رہا ہے۔

اسرائیلی اخبار کا کہنا کہ انقرہ اس وقت خوش ہوا جب اس کی سکیورٹی فورسز نے واشنگٹن میں واقع اپنے سفارت خانے میں سن 2017 میں بغیر کسی جبر کے امریکی مظاہرین کوکچلنے میں‌ کامیاب حاصل کی ، تاہم ، ترکی کامیابی پر اس قدر خوش تھا

انقرہ یروشلم کو تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے اور متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے نئے تعلقات کی وجہ سے مشتعل ہوگیا۔

ادھر اخبار لکھتا ہے کہ ترکی کی حکمران جماعت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ مصر کی حکومت کی بھی ایک دشمن تصورکی جاتی ہے۔

اخبارلکھتا ہے کہ ان حالات کودیکھ کرجائزہ لیا جائے تو یہ بات ثآبت ہوجاتی ہے کہ اب ترکی اتنا بہادر بن گیا ہے کہ وہ امریکہ جیسی سپرپاورکوبھی کچھ نہیں سمجھتا الٹا امریکہ کودھمکیاں دیتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.